آغازِ کلام
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
وشوہندو پریشد کی طرف سے نکالا گیا تھا اور مہادیو پرشاد اس کی قیادت کر رہا تھا۔ جلوس والے اس قسم کا نعرہ لگا رہے تھے : جئے ماں کالی ، تاتا ناریل پور کرو خالی۔ جلوس جب مسلم محلہ میں پہنچا تو مسلم نوجوان سڑک پر جمع ہوگئے ۔ انھوں نے جلوس کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ جلوس والے اس کو اپنی فتح سمجھ رہے تھے کہ وہ مسلم علاقہ (چھتر پور) سے گزر جائیں۔ اور مسلمان اپنی فتح اس میں سمجھ رہے تھے کہ وہ جلوس کو آگے بڑھنے نہ دیں۔ تناؤ بڑھا یہاں تک کہ وہاں کے " مسلم اسکول سے جلوس پر بموں کی بارش کی گئی اور دھماکے پر دھماکے ہونے لگے ۔ چھتر پور کے مسلم نوجوان سڑک پر جمع ہو کر جوابی نعرے لگانے لگے۔ پولیس نے روکنا چاہا تو انھوں نے مزید بم پھینکنا اور پتھراؤ کرنا شروع کر دیا (نئی دنیا ، نومبر ۱۹۸۹ء) اس کے بعد پورے شہر میں افواہیں پھیلنا شروع ہوگئیں ۔ اس طرح مسلمانوں نے ہندوؤں اور پولیس دونوں کو اپنا دشمن بنا لیا۔ اس کے بعد دونوں نے مل کر اتنی تباہی مچائی کہ اس کے تصور سے لرزہ طاری ہوتا ہے۔ ڈاکٹر محمد اشتیاق قریشی جو مولا نا علی میاں کے خاص ساتھیوں میں سے ہیں۔ انھوں نے " بھاگل پور میں قتل و خون ریزی نے ۱۹۷۲ء کی یاد تازہ کردی کے عنوان کے تحت اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ " یہ سزا کیوں دی گئی ، کیا محض چند پتھروں کے پھینکنے سے "۔ یہی انداز تمام مسلمانوں کا ہے۔ وہ مسلمانوں کے قصور کو چھپا کر یک طرفہ طور پر ہندوؤں کو اور حکومت کو برا کہتے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ طریقہ اسلام تو کیا ہوگا ، وہ کفر بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ اسلام خوف خدا پر کھڑا ہوتا ہے اور کفر خوف انسان پر اور اس روش کا دونوں میں کسی سے بھی تعلق نہیں۔ ۱۸ نومبر ۱۹۸۹ موجودہ زمانہ میں جن لیڈروں یا پارٹیوں کو کسی ملک میں سیاسی ووٹ ملے ہیں۔ وہ زیادہ منفی ووٹ (Negative vote) تھے نہ کہ مثبت ووٹ ۔ مثلاً ۱۹۷۷ء میں جنتا پارٹی کو ہندوستانی ووٹروں کی غیر معمولی حمایت حاصل ہوئی ۔ یہ صرف اس لئے تھا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ سے لوگ اندرا گاندھی سے بہت زیادہ ناراض تھے۔ یہی حال مسلم ملکوں کا ہے۔ مثلاً آیت اللہ خمینی کو ایران میں جو عوامی حمایت ملی وہ شاہ رضا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader