Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 198

By Maulana Wahiduddin Khan

کے خلاف غصہ کی بنا پر تھی۔ اسی طرح مصر یا پاکستان میں جن مسلم رہنماؤں کو مقبولیت حاصل ہوئی وہ زیادہ تر اس لئے تھی کہ انھوں نے اپنے ملک کے 'ظالم' حکمرانوں کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ وغیرہ تبلیغی جماعت کے کچھ لوگ ملاقات کے لئے آئے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ گمراہ مسلمانوں کی اصلاح کے لئے آپ اپنے دل میں جو ہمدردی اور خیر خواہی پاتے ہیں کیا وہی ہمدردی اور خیر خواہی آپ گمراہ ہندوؤں کی ہدایت کے لئے بھی اپنے سینہ میں پالتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر آپ قرآن کے معنی میں تبلیغی نہیں ہیں۔ اپنے ہم قوموں کی اصلاح کے لئے خیر خواہ بننے سے آپ داعی یا مبلغ نہیں ہوجاتے ۔ داعی اور مبلغ حقیقتاً وہ شخص ہے جس کا داعیانہ احساس اتنا بڑھے کہ اس کے سینہ میں غیر قوموں کے لئے ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ موج زن ہوجائے۔ ۲۰ نومبر ۱۹۸۹ الشیخ عبد المجید الزندانی (۵۰ سال) مشہور عرب علماء میں سے ہیں۔ آجکل وہ مکہ میں مقیم ہیں اور سائنس اور قرآن کے موضوع پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے معاون احمد الطاوی (مصری) آج ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ شیخ زندانی افغانی جہاد کے بارہ میں بے حد پر امید ہیں۔ وہ کئی بار افغانستان جا چکے ہیں۔ افغانی جہاد کے بارہ میں شیخ زندانی یہ کہتے ہیں کہ افغانی مجاہدین نے مسلمانوں کے سر کو ایک بار اور اونچا کر دیا ہے۔ یہ اسلام کی تاریخ اور اس کی عظمت کو از سر نو دنیا میں بر پا کرنے کی کوشش ہے (عن الجهاد الافغاني يقول الشيخ الزنداني : لتقرفع المجاهدون الافقان رؤس المسلمين مرة اخرى بعد ان نکست۔ انها محاولة لاعادة تاريخ ومجد الاسلام من جديد) میں اس رائے کو سراسر خوش نہی سمجھتا ہوں۔ بالفرض روس مکمل طور پر افغانستان سے بے تعلق ہو جائے اور بالفرض ڈاکٹر نجیب کی حکومت ختم ہو جائے ۔ اور بالفرض یہ ناقابل قیاس واقعہ بھی ظہور میں آ جائے کہ افغانستان میں مجاہدین کی متحدہ حکومت قائم ہو جائے تب بھی اسلام کی تاریخ عظمت کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page