Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

دہرانے سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔ اسلام کی تاریخ عظمت کے اعادہ کے لئے دنیا میں اسلام کی عسکری غلبہ لانا ضروری ہے۔ ٹائیمس آف انڈیا (۲۰ نومبر ۱۹۸۹) میں فرانس میں مسلمان (Muslims in France) کے عنوان سے ایک رپورٹ چھپی ہے۔ یہ رپورٹ اخبار مذ کور کے نامہ نگار مقیم پیرس ویجو نر دانی (Vaiju Naravane) نے تیار کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فرانس میں تقریباً تین ملین مسلمان ہیں۔ یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو مسلم ملکوں سے آکر یہاں آباد ہو گئے ہیں۔ مختلف تفصیلات دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مہاجرین کی یہ آبادی فرانس میں ووٹ دینے کا حق نہیں رکھتی: The immigrant population in France does not have the right to vote. مسلمانوں اور دوسرے مہاجرین کے اپنی تہذیبی شناخت (identity) کے بارہ میں مطالبات کی وجہ سے بہت سے فرانسیسی یہ کہنے لگے ہیں کہ ان مہاجرین سے چھٹکارا حاصل کر دو اور فرانس کو دوبارہ فرانسیسی کے حوالے کر دو: Get rid of the immigrants and give France back to the French. مسلمان بیرونی ملکوں میں جہاں بھی جاکر آباد ہوئے ہیں۔ وہ "سیکنڈ کلاس سٹیزن" بن کر رہتے ہیں۔ وہ وہاں کے حالات سے ایڈجسٹمنٹ کئے ہوئے ہیں۔ مگر یہی مسلمان اپنے ملک (مثلاً ہندوستان) میں چاہتے ہیں کہ وہ کسی ایڈجسٹمنٹ کے بغیر ہیں۔ یہی وہ تضاد ہے جس نے ہندوستان جیسے ملکوں میں مسلمانوں کو برباد کر رکھا ہے۔ فقہ میں بے شمار ایسے مسائل بن گئے ہیں جن کا قرآن و حدیث میں کوئی ذکر نہ تھا۔ اس نے دین کی وسعت کو غیر ضروری طور پر تنگی میں تبدیل کر دیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page