آغازِ کلام
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
شروع کیا کہ ایمان تو ان کے اندر موجود ہی ہے، اب ہمیں صرف اس کے اوپر عمل کی چھت تیار کرنا ہے۔ مگر یہ مفروضہ غلط تھا۔ ایمان محض تقلیدی عقیدہ یا تلفظ کلمہ کا نام نہیں، ایمان زندہ شعور کا نام ہے۔ ایک لفظ میں ایمان کو ذہنی انقلاب کہہ سکتے ہیں۔ جو ایمان ذہنی انقلاب ہو، اس کے اوپر اسلامی عمل کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کے اندر زندہ ایمانی شعور پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انھوں نے دوسری دوسری زمینوں پر اسلامی عمل کی عمارت کھڑی کرنا شروع کر دیا۔ کسی نے فضائل کی داستانوں پر اپنی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی کسی نے تاریخی فخر پر، کسی نے سیاسی غلبہ کے شوق پر، کسی نے غیر مسلموں کے خطرہ کا احساس دلا کر۔ مگر یہ سب گویا ریت کے اوپر دیوار کھڑی کرنا ہے۔ مسلمانوں کو دوبارہ مطلوبہ مسلمان بنانے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ تعمیر شعور سے ان کے اندر اصلاحی کام کا آغاز کیا جائے۔ ۲۲ جنوری ۱۹۸۹ء جمادی الاولیٰ ۱۴۰۹ھ) میں کویت میں ایک نہایت اہم اجتماع ہوا۔ اس کی کارروائیاں کویت کے ہلٹن ہوٹل میں انجام پائیں۔ اس میں عرب سربراہ اور مسلم حکومتوں کے نمائندے شریک تھے۔ پاکستان سے شمس الدین پیرزادہ نے شرکت کی جن کی حیثیت وزیر کی ہے۔ اس اجتماع میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اعلیٰ پیمانہ پر مجمع الفقہ الاسلامی قائم کی جائے جس کا ہیڈ کوارٹر جدہ ہو۔ اعلان کردہ مقاصد کے اعتبار سے یہ ایک نہایت اہم ادارہ ہے۔ مگر یقینی ہے کہ اس کا کوئی بھی فائدہ نہ ہوگا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس کے "المادة السابعة" کے مطابق، مجمع الفقہ الاسلامی میں الموتمر الاسلامی سے تعلق رکھنے والی ہر مسلم مملکت کا ایک ممبر ہوگا اور اس ممبر کا تعین متعلقہ حکومت کرے گی (يكون لكل دولة من دول منظمة الموتمر الاسلامی عضو عامل فی المجمع ويتم تعينه من قبل دولته ، صفحه ۱۲۱) جو ادارہ مسلم حکومتوں کے نامزد کردہ افراد پر مشتمل ہو، وہ یقینی طور پر ایک رسمی ادارہ بن کر رہ جائے گا، وہ کوئی زندہ کام نہیں کر سکتا۔ مگر دوسری مشکل یہ ہے کہ مسلمانوں کے جو غیر حکومتی ادارے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader