Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

مثال کے طور پر فقہ حنفی کی مشہور کتاب 'فتاویٰ عالمگیری' میں یہ مسئلہ درج ہے کہ غیرمسلم کے ہاتھ کا یا اس کے برتن کا کھانا درست نہیں۔ اگر کوئی مسلمان ناموافق حالات میں گھر جانے کی بنا پر ایک دو مرتبہ کھا لے تو کوئی حرج نہیں، مگر اس پر مداومت کرنا مکروہ ہے (ان ابتلى به المسلم مرة او مرتين فلا بأس واما الدوام عليه فكره، كتاب الكراهية) بخاری میں ایک کتاب (باب قبول الهدية من المشركين) کے تحت یہ حدیث موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غیر مسلم عورت کی زہر آلود بکری کا کھانا قبول کیا اور اس میں سے کھایا۔ اس لئے یہ فقہایہ نہیں کرتے کہ اس کو بالکل حرام قرار دیدیں۔ البتہ انھوں نے اس کو مکروہ بتا دیا اور کہہ دیا کہ اگر ایسا ایک دو بار ہو تو جائز ہے، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کافر کے ساتھ کھانا کھایا۔ ہم نے مسئلے کو اسی پر محمول کیا ہے۔ مگر اس پر مداومت کرنا مکروہ ہے (ان كان ذالك مرة او مرتين يجوز لان النبي صلى الله عليه وسلم اكل مع كافرة فحملناه على ذالك ولكن يكره المداومة عليه ، ر نفع المفتي والسائل) یہ مسئلہ سراسر بے بنیاد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں صرف ایک بار حج ادا کیا پھر کیا بار بار حج ادا کرنا مکروہ ہو جائے گا۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے دور میں امت کے اندر دعوت کا ذہن ختم ہو گیا، اسی نے اس قسم کے لغو مسائل پیدا کر دئے۔ ۲۳ نومبر ۱۹۸۹ بنجمن فرینکلن (Benjamin Franklin) ایک متنوع شخصیت کا آدمی تھا۔ وہ امریکہ میں ۱۷۰۶ء میں پیدا ہوا۔ اور ۱۷۹۰ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا قول ہے کہ ایک سڑا ہوا سیب اپنے ساتھ کے سیبوں کو بھی خراب کر دیتا ہے: The rotten apple spoils his companions. موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ آج وہ ایک بگڑی ہوئی قوم ہیں۔ چنانچہ جب غیر قوم کا کوئی آدمی اسلام قبول کر کے ان کی جماعت میں داخل ہوتا ہے تو وہ بھی دھیرے دھیرے ویسا ہی ہو جاتا ہے۔ تاہم اگر ایسا ہو کہ نومسلم بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں کے اندر داخل ہوں تو برعکس نتیجہ ظاہر ہوگا۔ اب مسلمان نومسلموں کے اثر سے دوبارہ ایک زندہ قوم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page