Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 201

By Maulana Wahiduddin Khan

بن جائیں گے۔ ٹائمز آف انڈیا کے نامہ نگار مقیم پیرس ویجوزروانی کی ایک رپورٹ ٹائمز آف انڈیا کے شمارہ ۲۴ نومبر میں شائع ہوئی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہندوستان اگرچہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے مگر ہندوستان کا الیکشن (۲۲ نومبر، فرنچ میڈیا (world's largest democracy) میں کوئی جگہ نہ پا سکا۔ ٹیلی ویژن، ریڈیو، اخبارات اس کے بارہ میں بالکل خاموش رہے۔ فرانس کی ایک خاتون وائلٹ گراف (Violette Graff) ہندوستان کی مذہبی اقلیتوں کی ماہر سمجھی جاتی ہے۔ مذکورہ نامہ نگار نے ان سے انٹرویو لیا۔ گفت گو کے دوران ہندوستان کے مسلمانوں کا ذکر آیا۔ انٹرویو نے کہا کہ کیا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلہ کا اصل سبب یہ ہے کہ انڈیا میں کوئی 'مسلم لیڈر شپ' نہیں۔ خاتون نے جواب دیا کہ بات یہ نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ انڈیا میں کسی مسلم لیڈرشپ کا ابھرنا سخت مشکل ہو گیا ہے۔ مسلمانوں میں کوئی واحد سیاسی لیڈر ابھرے تو اس کو Separatist کہا جائے گا اور اس کو نیا جناح (New Jinnah) کا لقب دے دیا جائے گا۔ اور اگر مسلمانوں کا ایسا لیڈر ہو جو گورنمنٹ سے قریب ہو تو کہا جائے گا کہ یہ تو شو مین (Showman) ہے۔ یہ بات نہایت صحیح ہے۔ موجودہ ہندوستان میں اگر کوئی مسلمان 'جناح' کے انداز میں بولے تو وہ حکومت کی نظر میں مشتبہ ہو جاتا ہے۔ اور اگر وہ 'سر سید' کے انداز میں کام کرنا چاہے تو مسلمان اس کو مشتبہ سمجھ لیتے ہیں۔ یہ سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کی کوئی طاقت ور لیڈرشپ ابھر نہ سکی۔ موجودہ ہندوستان میں 'جناح' جیسی لیڈر شپ کا ابھرنا عملاً ممکن ہے مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ 'سر سید' جیسی مسلم لیڈر شپ یقیناً مسلمانوں کے لئے مفید ہو سکتی ہے مگر موجودہ مسلمانوں میں ایسے کسی لیڈر کا ابھرنا ممکن نہیں۔ پاکستان کے مولانا کوثر نیازی ہندوستان آئے تھے۔ وہ بمبئی بھی گئے۔ وہاں بلشر اردو)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page