آغازِ کلام
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
کے نمائندہ ہارون رشید نے ان کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ہفت روزہ «دو» کے شمارہ ۲۵ نومبر ۱۹۸۹ء میں شائع ہوا ہے۔ انٹرویو رنے ایک سوال یہ کیا کہ آپ کی حکومت ڈھائی لاکھ بہاریوں کو بنگلہ دیش کے کیمپوں میں کیوں سڑارہی ہے۔ مولانا کوثر نیازی نے جواب دیا کہ بے شک وہ لوگ پاکستانی ہیں۔ ان کو واپس بلانے کے لئے پاکستان کے پاس رقم کی کمی بھی نہیں۔ تاہم بعض اسباب رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے ایک سبب یہ بتایا کہ سندھیوں کو یہ خطرہ ہے کہ یہ بہاری اگر کراچی آکر آباد ہوگئے تو آبادی کا توازن بگڑ جائے گا، اس لئے وہ شور مچاتے ہیں۔ پاکستان بننے سے پہلے ہندو اور مسلمان کے درمیان اکثریت اور اقلیت کا مسئلہ تھا۔ اس سے بچنے کے لئے پاکستان بنایا گیا، مگر جب پاکستان بن گیا تو معلوم ہوا کہ دوبارہ یہی مسئلہ مہاجر مسلمان اور سندھی مسلمان کی صورت میں موجود ہے۔ بلکہ زیادہ شدید طور پر۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کسی مسئلہ کا حل نہیں تھا۔ البتہ اس نے مسائل میں اضافہ کر دیا۔ ۲۶ نومبر ۱۹۸۹ء لارنس اسٹرن (Laurence Sterne) ۱۳۷۱ء میں انگلینڈ میں پیدا ہوا۔ ۱۷۶۸ء میں وفات پائی۔ ۵۷ء میں اس نے ایک (Satire) لکھا۔ اس کا نام ایک سیاسی رومان (A Political Romance) تھا۔ اس کو چرچ کے لوگوں نے جلا دیا۔ اس کے بعد اس نے ایک کہانی لکھی جس کا نام Tristram Shandy تھا۔ اس کو لندن کے پرنٹر (رابرٹ ڈاڈسلے) نے چھاپنے سے انکار کر دیا۔ مگر یہی شخص بعد کو انگریزی کا مشہور ناول نگار بنا۔ حتیٰ کہ خود اس کی زندگی اور کارناموں پر بڑی بڑی کتابیں لکھی گئیں۔ آدمی کے اندر اگر صلاحیت ہو اور وہ محنت کرے تو یقیناً وہ کامیاب ہو کر رہتا ہے خواہ ابتدائی طور پر ساری دنیا نے اس کو رد کر دیا ہو۔ جی ڈی گا درے (واردھا ۱۹۲۰) ملاقات کے لئے آئے۔ طالب علی کے زمانہ میں ان کا تعلق آرایس ایس سے ہو گیا تھا۔ اب وہ صوفی ازم سے متاثر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۳۵ء

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader