آغازِ کلام
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
میں وہ امراوتی کے ایک اسکول میں پڑھتے تھے اور آر ایس ایس کی شکامیں شامل تھے۔ اس وقت ان کی عمر ۱۵ سال تھی۔ ایک روز جب کہ شاکھا کے طلبہ جمع تھے، ڈاکٹر ہیڈ گوار (بانی آر ایس ایس) وہاں آئے۔ انھوں نے طلبہ کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد یہ کریക്ടര് بلڈنگ ہے۔ ہم پالی ٹیکس سے دور رہ کر اچھے آدمی بنانا چاہتے ہیں۔ پھر ڈاکٹر ہیڈ گوار نے کہا کہ مانو ایک مسلمان لڑکی سڑک پر تانگہ میں بیٹھی ہوئی جارہی ہے۔ کچھ ہندو لڑکے اس کو چھیڑتے ہیں۔ اس وقت تمہارا فرض کیا ہوگا ۔ طلبہ چپ رہے۔ ڈاکٹر ہیڈ گوار نے خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ شاکھا میں تم جو ڈنڈے چلانا سیکھ رہے ہو، اس وقت تم یہ ڈنڈا ان ہندوؤں پر چلاؤ اور اس مسلم لڑکی کو بچاؤ۔ یہ واقعہ سن کر میں نے کہا: پہلے زمانہ میں ایک فرقہ پرست کے اندر بھی کچھ اخلاق ہوتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں قوم پروروں کے اندر بھی کوئی اخلاق موجود نہیں۔ ۲۸ نومبر ۱۹۸۹ء اسلام کی ابتدائی تین صدیوں تک تصوف اور صوفیاء کا کوئی وجود نہ تھا۔ ظہور اسلام کے تین سو سال بعد بصرہ میں حسن بصری کے شاگردوں میں اس کا ظہور ہوا۔ مثلاً عبد الواحد بن زید وغیرہ۔ مسیحی رہبانوں کے زیر اثر یہ لوگ صوف (اون) کے کپڑے کو افضل سمجھتے تھے۔ کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح اون کے کپڑے پہنا کرتے تھے۔ اسی بنا پر یہ لوگ صوفی کے نام سے مشہور ہوئے۔ صوفیاء کا کہنا تھا کہ عبادت کی بنیاد محبت ہے۔ وہ خوف خدا کو کمتر چیز سمجھ کر نظر انداز کرتے تھے۔ ایک صوفی کا قول ہے کہ میں اللہ کی عبادت اس کی جنت کے طمع میں یا اس کی جہنم کے ڈر سے نہیں کرتا ( انالا أعبدُ الله طمعاً في جنّته ولا خوفاً من ناره ) یہ ایک لغو بات ہے۔ قرآن میں پیغمبروں کے بارہ میں ہے کہ وہ اللہ کو خوف اور طمع کے جذبہ سے پکارتے تھے ( يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفاً وَطَمَعاً ) اس کے علاوہ یہ بات عقل عام کے خلاف ہے۔ ایک شخص شیر کو قریب سے دیکھ رہا ہو تو اس کا رنگ اور اس کی ساخت اس کو اچھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader