آغازِ کلام
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
لگ سکتی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اس کو شیر کا ڈر بھی لگا رہے گا۔ اسی طرح اللہ کے احسانات کی بنا پر بندہ کے دل میں اس کے بارہ میں شکر اور محبت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ خدا کا قادرمطلق اور محاسب و مجازی ہونا آدمی کو اندیشہ ناک بھی بناتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بندہ اور خدا کے تعلق میں محبت کا دخل بھی اتنا ہی ہے جتنا خوف کا، خوف کا دخل بھی اتنا ہی ہے جتنا محبت کا۔ یہاں ان دونوں جذبات کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ۲۹ نومبر ۱۹۸۹ امام عبدالرحمن ابن جوزی غالباً ۵۰۸ ھ ( ۶۱۱ ) میں پیدا ہوئے اور ۶۰۱ اء میں وفات پائی۔ وہ اسلامی تاریخ کے بڑے علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ تحصیل علم کا انھیں بے حد شوق تھا۔ لکھتے ہیں کہ ابتدائی تعلیم کے زمانہ میں دوسرے ہم سبق لڑکے کے دجلہ کے کنارے کھیلنے چلے جاتے تھے، اور میں کسی کتاب کو لے کر اس کے مطالعہ میں مشغول رہتا تھا۔ ان کا یہی حال زندگی بھر رہا۔ اپنی بابت لکھتے ہیں کہ میری طبیعت کتابوں کے مطالعہ سے کبھی سیر نہیں ہوتی تھی۔ جب کسی نئی کتاب پر میری نظر پڑ جاتی تو ایسا معلوم ہوتا گویا میں نے کوئی خزانہ پا لیا ہے، مکانی وقعت علیٰ کنز) مطالعہ کا یہی شوق آدمی کو عالم بنا آتا ہے۔ ابن جوزی نے بہت سی نہایت قیمتی کتابیں لکھی ہیں۔ ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ میں نے شمار کیا تو ان کی کتابوں کی تعداد ایک ہزار پائی۔ ۳۰ نومبر ۱۹۸۹ آج انسان کی کمزوریوں کو سوچ کر آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے کہا : خداایا ، مجھ کو ان لوگوں میں لکھ لیجئے جنہوں نے عاجز بن کر دنیا سے جانے سے پہلے اپنے عجز کا اقرار کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عجز ہی تمام اعمال کا خلاصہ ہے۔ آدمی جب سچائی کا اعتراف کرتا ہے تو حقیقۃً وہ اپنے عجز کا اعتراف کرتا ہے۔ آدمی جب سجدہ میں اپنا سر رکھتا ہے تو وہ خدا کے مقابلہ میں اپنے عجز کامل کا اظہار ہوتا ہے۔ اسی طرح تمام دینی اعمال کی اصل روح عجز کا احساس ہے وہی عمل سچا عمل ہے جس کے اندر عجز کی روح پائی جائے۔ جو عمل عجز سے خالی ہو، اس عمل کی کوئی حقیقت نہیں۔ اسلام کی اصل روح عجز و تواضع ہے نہ کہ فخر و ناز۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader