آغازِ کلام
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
یکم دسمبر ۱۹۸۹ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا : دعوت فخر کا اظہار نہیں، دعوت تواضع کا اظہار ہے۔ اس کا پیغام روشنائی سے تحریر نہیں کیا جاتا بلکہ آنسوؤں سے لکھا جاتا ہے۔ دعوت وہ پیغام ہے جو نفرت کی زبان میں نہیں دیا جاتا، بلکہ محبت کی زبان میں دیا جاتا ہے۔ وہ نعروں کے ذریعہ نہیں بلکہ دعاؤ้ง کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ دعوت ایک ربانی عمل ہے نہ کہ کسی قسم کا قومی عمل۔ ۲ دسمبر ۱۹۸۹ جب میں پیدا ہوا تو روس میں اشتراکی انقلاب (۱۹۱۷) پر تقریباً اٹھارہ سال گزر چکے تھے۔ اس کے بعد اشتراکی روس کے بارہ میں جو کچھ پڑھا، اس سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ روس میں مذہب کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ روس میں مذہبی آزادی نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دعوت دین کا کام اب صرف آزاد دنیا میں ہو سکے گا۔ کمیونسٹ دنیا میں دعوت دین کے کام کی کوئی صورت نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کے قانون دفع (البقرہ ۲۵۱) نے کام کیا۔ اشتراکی انقلاب کے ۷۰ سال بعد حالات بدلنا شروع ہو گئے۔ یہاں تک کہ اکتوبر ۱۹۸۹ میں لوگوں نے دیکھا کہ برلن وال ٹوٹ رہی ہے۔ اب یکم دسمبر ۱۹۸۹ کو ٹیلیویژن دیکھنے والوں نے ساری دنیا میں یہ منظر دیکھا کہ سوویت یونین کا وزیر اعظم گورباچوف خود ویٹیکن جاتا ہے اور وہاں پوپ سے ہاتھ ملا کر یہ اعلان کرتا ہے کہ روس میں مکمل مذہبی آزادی بحال کر دی جائے گی اور ویٹیکن اور ماسکو کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کئے جائیں گے۔ اس تبدیلی نے روس میں دوبارہ مذہبی کام کے دروازے کھول دئے ہیں۔ مگر مجھے شبہ ہے کہ اس کا فائدہ صرف عیسائی طبقہ کو ملے گا۔ مسلمان اس کے فائدے حاصل کرنے سے محروم رہیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائی لوگ معاملات کی حد کو جانتے ہیں۔ مگر مسلمان حد کو نہیں جانتے۔ ہر آزاد ی محدود آزادی ہے۔ روس میں مذہب کی آزادی بھی محدود آزادی رہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader