آغازِ کلام
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
گی. مگر موجودہ زمانہ میں مکمل اسلام کے علم برداروں نے جو ذہن بنایا ہے، وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں مانع بن جاتا ہے۔ اور ملے ہوئے مواقع کو استعمال کرنے سے محروم رہتا ہے۔ حیدر آباد کے روز نامہ سیاست (یکم اکتوبر ۱۹۸۹) میں جناب انور بیگ صاحب کا مضمون چھپا تھا جس کا عنوان تھا: ”ہندوستان اقلیتوں کا ملک۔ اس مضمون میں مسلمانوں کے بارہ میں یہ درج تھا کہ ”مسلمانوں نے انگریزوں کی آمد سے پہلے سات سو سال تک ہندوستان پر حکومت کی تھی: اس کے جواب میں شری کاشی ناتھ ایم اے، ایل ایل بی کا مضمون قومی آواز (۲ دسمبر ۱۹۸۹) میں شائع ہوا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ یہی ذہن فساد کی جڑ ہے۔ مسلمان کہتے ہیں کہ ہم نے اس ملک میں سات سو سال دیا ایک ہزار سال، تک حکومت کی ہے۔ دوسری طرف ہندو کہتے ہیں کہ ہم ایک ہزار سال کی محکومی کے بعد آزاد ہوئے ہیں۔ اس طرح دونوں فرقوں کے درمیان تناؤ پیدا ہوتا ہے اور دنگے وجود میں آتے ہیں۔ مجھے شری کاشی ناتھ کی اس بات سے اتفاق ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں نے مسلمانوں کو دوبارہ جگانے کے لئے ان کا ماضی کا دور حکومت یاد دلایا۔ اس کی وجہ سے پوری مسلم قوم میں حاکمانہ نفسیات پیدا ہو گئی۔ کسی نے کہا کہ ہم نے اس ملک میں سات سو سال تک حکومت کی ہے۔ کسی نے کہا کہ ہم نے اس ملک میں ہزار سال تک حکومت کی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ہندوؤں میں رد عمل پیدا ہوا۔ ۱۹۴۷ء کے بعد وہ سوچنے لگے کہ یہ مسلمان ماضی میں بھی ہمارے اوپر حکومت کرتے رہے اور اب ملک کا بٹوارہ کرنے کے بعد بھی وہ ہم کو حاکم اور محکوم کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے دونوں کے درمیان تعلقات غیر معتدل ہو کر رہ گئے۔ ہندوستان میں فرقہ وارانہ ظلم کے جو واقعات ہو رہے ہیں وہ سب اسی کا شاخسانہ ہیں۔ ۴ دسمبر ۱۹۸۹ کمیونسٹ دنیا اور سرمایہ دار دنیا میں تقریباً ۷۰ سال سے رقابت قائم تھی۔ دونوں بلاک اپنی قومی دولت کا بہترین حصہ ہتھیار بنانے پر خرچ کر رہے تھے جس کو بوقت جنگ استعمال کرسکیں ۔ مگر پچھلے ایک سال کے اندر صورت حال مکمل طور پر بدل گئی۔ اب دونوں بلاکوں میں جنگ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader