Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بجائے مفاہمت کی باتیں کی جارہی ہیں۔ حتیٰ کہ دونوں اس پر گفتگو کر رہے ہیں کہ اپنے خوفناک ہتھیاروں کو ختم کر دیں۔ ٹائمز آف انڈیا (۳۱ دسمبر ۱۹۸۹) میں اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے مسٹر ڈھو لے نے بجاطور پر کہا ہے کہ جنگ اب عالمی طاقت یا سماجی تبدیلی کے ذریعہ کی حیثیت سے ناممکن چیز بن چکی ہے۔ ایک جوہری جنگ انسانیت کی بربادی کے ہم معنی ہوگی۔ اس کے بعد کوئی بھی شخص زندہ نہیں رہے گا جو اپنی فتح کی تقریب منا سکے : یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کے پاس فوجی طاقت ہے۔ وہ جنگ کے بجائے امن کی باتیں کر رہے ہیں۔ دوسری طرف مسلم رہنما جن کے پاس کوئی طاقت نہیں، وہ مسلمانوں کے جلسوں میں "مسلح انقلاب" پر تقریریں کر رہے ہیں۔ اس قسم کی عسکری تقریروں کا تعلق اسلام سے تو کیا ہوگا، ان کا غفل سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ ۵ دسمبر ۱۹۸۹ دیوبند کے دو عالم ملاقات کے لئے آئے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل جگہ جگہ "تحفظ نبوت کانفرنس" ہو رہی ہے۔ میں اس قسم کی کانفرنسوں کو بالکل بے معنی سمجھتا ہوں ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے "تحفظ آفتاب کانفرنس" منعقد کی جائے۔ سورج براہ راست خدا کی طاقت سے قائم ہے ، اس کے لئے تحفظ کانفرنس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اسی طرح نبوت کی حفاظت بھی خدا نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ اس کے لئے بھی یہ ضرورت نہیں کہ تحفظ کانفرنس منعقد کی جائے۔ مسلمانوں کی اصل ذمہ داری پیغام نبوت کی پیغام رسانی ہے۔ یعنی پیغمبر نے اپنے بعد جو دین چھوڑا ہے اس کو دنیا کی تمام قوموں تک پہنچانا۔ موجودہ نہ مانہ کے مسلمان دعوت نبوت کا کام نہیں کرتے، البتہ وہ تحفظ نبوت کی کانفرنسیں کر رہے ہیں۔ اس قسم کا فعل مسلمانوں کی اصل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page