Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 208

By Maulana Wahiduddin Khan

مسئولیت کا کسی بھی درجہ میں بدل نہیں۔ ہندوستانی لوک سبھا (پارلیمنٹ) میں کل ۵۲۹ سیٹیں ہیں۔ ان میں سے ۵۲۵ سیٹوں کے لئے ۲۲ نومبر ۱۹۸۹ء کو الیکشن ہوا۔ چار بڑی پارٹیوں کے کامیاب ممبروں کی تعداد یہ ہے: کانگریس (آئی) ، ۱۹۳ جنتا دل ، ۱۴۱ بھارتیہ جنتا پارٹی ، ۸۸ مارکسی کمیونسٹ پارٹی ، ۳۲ جنتا دل نے بی جے پی اور کمیونسٹ پارٹی کو ساتھ لے کر مرکزی وزارت بنائی ہے۔ دہلی کے امام عبداللہ بخاری نے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ جنتا دل کو ووٹ دیں۔ فسادات کی وجہ سے چوں کہ مسلمان حکراں پارٹی کانگریس سے سخت ناراض تھے، اس لئے انہوں نے بہار اور یو پی میں بڑی تعداد میں جنتا دل کو ووٹ دیا۔ قومی آواز (۶ دسمبر ۱۹۸۹ء) کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے: ”نئے وزیر اعظم وی پی سنگھ اپنے وزیروں کا انتخاب کرتے وقت امام عبد اللہ بخاری سے کئے ہوئے اپنے وعدے بھول گئے جو انھوں نے الیکشن سے پہلے امام عبد اللہ بخاری سے کئے تھے۔ امام بخاری کی خواہش تھی کہ مسٹر عارف محمد خاں اور مسٹر ارن نہرو کو کیبینٹ میں شامل نہ کیا جائے۔ کیوں کہ عارف محمد خاں نے مسلم پرسنل لاء کی مخالفت کی تھی اور مسٹر ارن نہرو نے یکم فروری ۱۹۸۶ کو بابری مسجد کا تالا کھلوا کر اس کا جھگڑا بڑھایا تھا۔ مگر وی پی سنگھ نے ان دونوں صاحبان کو اپنی کیبینٹ میں شامل کر لیا۔“ جو لوگ سیاسی پارٹیوں سے انتخابی وعدے لیں اور انتخابی وعدوں کا اعتبار کریں، ان سے زیادہ نادان اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ کارل پاپر (Karl Popper) نے ۱۹۸۸ میں لندن اکونومسٹ میں الیکشن کے بارہ میں ایک مضمون لکھا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ ڈیموکریسی کے نظام میں الیکشن کے ذریعہ ووٹروں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page