Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

کو جو موقع دیا جاتا ہے، وہ اپنی پسندیدہ حکومت چننے سے زیادہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ اپنی ناپسندیدہ حکومت کو ہٹا سکیں : Elections in a democracy offer an opportunity not so much to choose ہندوستان میں ایمرجنسی کے بعد ۱۹۷۷ کا الیکشن اور راجودھیا میں شلانیاس (۹ نومبر ۱۹۸۹) کے بعد ۲۲ نومبر ۱۹۸۹ کا الیکشن اس کی نہایت واضح مثالیں ہیں۔ ان دونوں مواقع پر مسلمانوں نے کانگریس پارٹی کے خلاف ووٹ دیا۔ مگر یہ صرف منفی ووٹ (Negative vote) تھا، مسلمان کانگریس سے خفاتھے، اس لئے انہوں نے ان پارٹیوں کے حق میں ووٹ دیدیا جو کانگریس کے خلاف کھڑی ہوئی تھیں۔ اس قسم کی منفی ذہنیت (Negative sentiment) کا سب سے زیادہ نقصان خود مسلمانوں کو ہوا ہے۔ ان کے اکثر ووٹ ضائع ہو گئے ۔ چنانچہ ۲۲ نومبر کے الیکشن کے بعد جو لوک سبھا (پارلیمنٹ بنی ہے، اس میں مسلمان ممبروں کی تعداد ہمیشہ سے کم ہے۔ آٹھویں لوک سبھا میں مسلم ممبروں کی تعداد چالیس تھی، موجودہ نویں لوک سبھا میں مسلم ممبروں کی تعداد ۳۷ ہے۔ ۸ دسمبر ۱۹۸۹ موجودہ زمانہ کا مزاج یہ ہے کہ ہر چیز کو بلا واسطہ طور پر اس کے براہ راست ذرائع سے جانے ۔ یہی مزاج مذہبی معاملہ میں بھی کام کرتا ہے۔ چنانچہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ جو اسلام کو پڑھنا چاہتا ہے وہ دوسروں کی لکھی ہوئی کتابوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ وہ براہ راست قرآن وحدیث سے جاننا چاہتا ہے کہ اسلام کیا ہے۔ دور جدید کے اس مزاج نے "ترجمہ" کی اہمیت بہت زیادہ بڑھا دی ہے ۔ جو لوگ عربی نہیں جانتے، وہ چاہتے ہیں کہ انھیں قرآن وحدیث کے ترجمے (بلا تشریح ملیں تاکہ وہ ان کے ذریعہ اسلام کو سمجھ سکیں۔ موجودہ زمانہ کے رہنماؤں نے اس راز کو نہیں جانا چنانچہ خود تو بے شمار کتابیں لکھتے رہے، مگر صحیح تراجم فراہم کرنے کی کوشش نہ کی۔ میں نے اس سلسلہ میں چار کتابوں کا انتخاب کیا ہے۔ میری خواہش ہے کہ ان کتابوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page