Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں وہ اختلافات کا شکار ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اجتماعی ادارے دو میں سے کسی ایک کمزوری میں مبتلا ہیں۔ اگر وہ حکومت کی سر پرستی میں ہیں تو وہ رسمی ہو کر رہ گئے ہیں اور اگر وہ آزاد ہیں تو اندرونی اختلافات کا شکار ہیں۔ ۲۵ جنوری ۱۹۸۹ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی جو تحریریں بھی میں پڑھتا ہوں، وہ مجھے فخر سے بھری ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ کوئی شخص براہ راست فخر کے الفاظ بولتا ہے، کسی کی تحریر میں فخر کا لفظ نہیں ہوتا، مگر اس کو دیکھ کر صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہ فخر کی نفسیات کے تحت لکھی گئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اسلام کو اپنا فخر بنا لیا ہے۔ ان کا یہی احساس ان کی گفتگو اور تحریر میں جھلکتا رہتا ہے۔ مثلاً ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوة (۲۴ جمادی الاولیٰ ۱۴۰۹ھ) میں ایک تفصیلی مضمون ( الاعياد بين التعظيم والتقليد ) شائع ہوا ہے۔ اس کا ایک جملہ یہ ہے: ( من مفاخر الاسلام انه دين مسئول ... ومن مفاخر الاسلام ايضاً انه ليس رهبانية وانما هو دين حياة معتدلة ) اسلام کی قابل فخر باتوں میں سے یہ ہے کہ وہ مسئولیت کا دین ہے۔ اسی طرح اسلام کی قابل فخر باتوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ رہبانیت کا دین نہیں، وہ معتدل زندگی کا دین ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب نے کبھی فخر کی زبان استعمال نہیں کی۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کے مسلمان ہیں جو اس قسم کی زبان بولتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے چونکہ اسلام کو اپنے فخر کی چیز بنا رکھا ہے، اسی لئے وہ ان کے یہاں عمل کی چیز نہ بن سکا۔ فخر کی نفسیات صرف جھوٹی تعلی کا جذبہ ابھارتی ہے، وہ آدمی کے اندر کبھی عمل کا جذبہ بیدار نہیں کرتی۔ تبلیغی جماعت کے دو عالم ملاقات کے لئے آئے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ تبلیغ کے ذریعہ لاکھوں مسلمانوں کی اصلاح ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں میں اصلاح کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page