Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں جو لوگ مذہب کے نام پر اٹھتے ہیں، خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان، سب لڑائی کی بات کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ سیکولرزم کے نام پر اٹھتے ہیں، وہ امن و سلامتی کی بات کرتے ہیں۔ یہ فرق بڑا عجیب ہے۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۸۹ء سید ابو الاعلیٰ مودودی پاکستان میں "نظام مصطفیٰ" کے نفاذ کا نعرہ لے کر اٹھے۔ ان کے نزدیک مفروضہ نظام مصطفیٰ کے قیام کی راہ میں واحد رکاوٹ پاکستان کے حکمراں افراد تھے۔ چنانچہ حکمراں افراد کو گرانے کے لئے انھوں نے ہر ممکن تدبیر اختیار کی۔ ۱۹۶۵ء میں صدر ایوب خاں کے خلاف پاکستان کے تمام سطحی لیڈر متحد ہو گئے، ان میں سید ابو الاعلیٰ مودودی بھی تھے۔ انھوں نے ایوب خاں کو گرانے کے لئے مس فاطمہ جناح کو ان کے مقابلہ میں کھڑا کیا۔ حالاں کہ اس سے پہلے وہ خود لکھ چکے تھے کہ اسلام میں عورت کو سربراہ مملکت بنانا جائز نہیں۔ اب سید ابو الاعلیٰ مودودی کے نظریاتی شاگرد "کشمیر لبریشن فرنٹ" یہی لایعنی فعل کشمیر میں کر رہے ہیں۔ وہ کشمیر میں "نظام مصطفیٰ" قائم کرنے کا نعرہ لے کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ اور تخریب کاری کے ذریعہ پوری وادی کے امن کو غارت کر دیا ہے۔ ۸ دسمبر ۱۹۸۹ء کو انھوں نے مرکزی وزیر داخلہ مفتی سعید کشمیری کی لڑکی ڈاکٹر روبینہ سعید کو اغوا کر لیا جو سری نگر میں منی بس سے سفر کر رہی تھی اور اسپتال میں اپنی ڈیوٹی کر کے گھر واپس جا رہی تھی۔ میرے نزدیک مس فاطمہ جناح کو ایوب کے مقابلہ میں صدارت کے لئے کھڑا کرنا، اور مفتی سعید کی غیر شادی شدہ لڑکی کو سڑک سے اغوا کرنا دونوں یکساں درجہ کے واقعات ہیں اور دونوں نام نہاد نظام مصطفیٰ کے علمداروں نے کئے ہیں۔ یہ سیاست بازی کی دھن میں اسلام کی حدود کو پار کرنا ہے۔ ایک شخص شراب پی کر اتنا بڑا جرم نہیں کرتا جتنا پاکستان اور کشمیر کے نام نہاد اسلام پسند کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر بد ترین رہنما ثابت ہوئے ہیں۔ وہ ہر الیکشن میں مسلمانوں سے منفی ووٹ (Negative vote) دلواتے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان خود مسلمانوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page