Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 212

By Maulana Wahiduddin Khan

کو پہنچتا ہے۔ ۱۹۶۷ء کے الیکشن میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ابھری۔ مولانا علی میاں، ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی نے اپوزیشن کی 'نان کانگریس ازم' کا ساتھ دیا۔ علی میاں نے مسلمانوں سے کہا کہ مسلمان کانگریس کو ہرا کر اپنی طاقت کا ثبوت دیں۔ مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر کانگریس کے خلاف ووٹ دیا۔ اس کے نتیجہ میں کئی ریاستوں میں غیر کانگریسی حکومتیں قائم ہو گئیں۔ ان حکومتوں نے ریاستی پولیس میں فرقہ پرست عناصر کو بھر دیا۔ ایمرجنسی کے بعد ۱۹۷۷ء میں الیکشن ہوا۔ اب دوبارہ مسلم لیڈروں نے مسلمانوں کو اکسایا کہ وہ کانگریس کے خلاف ووٹ دیں۔ کانگریس کو شدید ناکامی ہوئی۔ مرکز میں جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ اس بار پہلے سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر پولیس میں فرقہ پرست ہندو بھر دئے گئے۔ فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمان بری طرح پولیس کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں، وہ اسی کا کرشمہ ہیں۔ ان فسادات میں مسلمانوں کی تباہی ۵۰ فیصد مسلمانوں کے عدم برداشت کی وجہ سے ہوتی ہے اور ۵۰ فیصد مسلمانوں کے منفی ووٹ (Negative vote) کی پالیسی کی وجہ سے۔ ۱۲ دسمبر ۱۹۸۹ روی الترمذى عن انس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لقد أُخِفتُ في الله وما يخاف احد ولقد اوذيتُ وما يُؤذى احد رترمذی نے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ کے راستہ میں اتنا ڈرایا گیا جتنا کسی کو نہیں ڈرایا گیا۔ اور مجھے اتنا ستایا گیا جتنا کسی کو نہیں ستایا گیا، اس طرح کی روایتیں جو حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، ان کا مطلب کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا کا کوئی کام حکمت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ "ایذاء، برائے ایذاء خدا کی شان کے خلاف ہے۔ اس کی ایک نفسیاتی توجیہ میری سمجھ میں آتی ہے۔ انسان کے دماغ میں اتھاہ صلاحیتیں ہیں۔ گمراہ ابتدائی حالت میں وہ سوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ واحد چیز جو انہیں جگاتی ہے وہ زندگی کی مصیبتیں ہیں۔ بشرطیکہ مصیبتیں پڑنے پر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page