Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

میرا خیال ہے کہ آدمی کے دماغ کے سل (Brain cells) مصیبتوں سے متحرک ہوتے ہیں۔ زیادہ مصیبت کا مطلب زیادہ دماغی سل کا متحرک اور بیدار ہونا ہے۔ کسی آدمی کے اندر جتنا زیادہ دماغی سل حرکت میں آئیں گے، اتنا ہی زیادہ وہ بے پناہ ہوتا چلا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہی معاملہ اعلیٰ ترین شکل میں پیش آیا۔ ۱۳ دسمبر ۱۹۸۹ ایک جرمن عالم نفسیات ویلم اسٹرن (Willian Stern) نے ذہانت کی جانچ (Intelligence test) کا ایک طریقہ نکالا۔ بعد کو امریکہ کے عالم نفسیات لیوس ٹرمین (Lewis Terman) نے اس کو اختیار کر لیا۔ دوسرے بہت سے علماءِ نفسیات نے اس کا اعتراف کیا اور وہ عام طور پر ذہانت کی جانچ کے لئے اسٹینڈرڈ طریقہ مانا جانے لگا۔ اس کا نام (Intelligence quotient) ہے۔ مختصر طور پر اس کو آئی کیو (IQ) کہا جاتا ہے۔ مگر محققین نے اس طریقہ کے بارہ میں سخت شبہات ظاہر کئے ہیں۔ مثلاً لیون کامن (Leon Kamin) نے کہا ہے کہ اس قسم کی ہر جانچ دماغ کی صلاحیتوں کو جاننے کا صرف ایک کمتر رہنما ہے: Every test is only a rough guide to real abilities. حقیقت یہ ہے کہ دماغ قدرت کا ایک اتھاہ خزانہ ہے۔ دماغ کی صلاحیتیں اس سے زیادہ ہیں کہ وہ کسی حسابی یا میکانکی جانچ کی حد میں سماسکیں۔ ۱۴ دسمبر ۱۹۸۹ جان ہیووڈ (John Heywood) لندن میں ۱۷۹۹ میں پیدا ہوا۔ اور ۱۹۵۰ میں ہلیمیر میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ڈراما اور کہانی لکھتا تھا۔ اس کا ایک قول ہے کہ ایک چاہنے والے دل کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں : Nothing is impossible to a willing heart. یہ قول نہایت صحیح ہے۔ مگر چاہنے کا مطلب سادہ معنوں میں صرف آرزو نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب سچی طلب ہے۔ جس آدمی کے اندر کسی چیز کی سچی طلب پیدا ہو جائے تو وہ اس کے لئے اپنی ساری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page