Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

عملی اور اخلاقی اوصاف پیدا کر دیتی ہے جو کسی چیز کے حصول کے لئے ضروری ہے۔ اور جب کسی آدمی کے اندر ضروری عملی اور اخلاقی اوصاف پیدا ہو جائیں تو ایسا شخص یقیناً کامیاب ہو کر رہتا ہے۔ کوئی چیز اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ ۱۵ دسمبر ۱۹۸۹ پاکستان میں مرکز میں بے نظیر بھٹو کے تحت پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ اور وہاں کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں نواز شریف کے تحت اسلامی اتحاد کی۔ دونوں میں مسلسل محاذ آرائی قائم ہے۔ نوائے وقت (۱۱ دسمبر ۱۹۸۹) نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے: "ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، وفاقی حکومت اور پنجاب کی حکومت کے درمیان سیاسی محاذ آرائی کے نتیجہ میں قومی معیشت کو ایک سال کے دوران ۶۵ ارب روپیہ کا نقصان پہنچ چکا ہے:" اخبار نے اس کے علاوہ اور بہت سے نقصانات گنائے ہیں۔ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان کے درمیان محاذ آرائی تھی۔ اس سے بچنے کے لئے پاکستان بنایا گیا تو وہاں مسلمان اور مسلمان کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوگئی۔ کتنے نادان تھے وہ لوگ جو یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کے نام سے ایک الگ مسلم خطہ بنوانے کے بعد ٹکراؤ اور محاذ آرائی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ۱۶ دسمبر ۱۹۸۹ ۱۶ دسمبر ۱۹۸۹ کے اخبارات یہ تند و تیز خبر لائے کہ مرکز کے کشمیری وزیر داخلہ مفتی سعید کی ۲۳ سالہ لڑکی ڈاکٹر روبیہ سعید کو کشمیر لبریشن فرنٹ کے مسلم نوجوانوں نے اغوا کر لیا ہے۔ اس کے بعد کئی روز تک یہی خبر اخباروں کے صفحہ اول کی اہم ترین خبر بنی رہی۔ یہاں تک کہ ۲۴ دسمبر ۱۹۸۹ کے اخبارات نے بتایا کہ پانچ دہشت گرد قیدیوں کو چھوڑ کر ڈاکٹر روبیہ کو رہا کر لیا ہے۔ کشمیر کے مسلم نوجوان جو آزادی کشمیر کی تحریک چلا رہے ہیں، انھوں نے اس واقعہ پر فتح کی خوشی منائی۔ مگر یہ واقعہ بے حد خطرناک الارم تھا۔ چنانچہ ۱۶ دسمبر کے اخبارات نے بتایا کہ کشمیر میں پھر فوجی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ہندوستان ٹائمس ۱۶ دسمبر کی سرخی یہ ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page