آغازِ کلام
Urdu book, p. 215
By Maulana Wahiduddin Khan
Curfew in entire Kashmir Valley بنتا ہوا ایسا معلوم ہوتا کہ دہلی کی حکومت ڈاکٹر رویہ کے واقعہ کو بطور عذر استعمال کرے گی اور کشمیر کے انتہا پسند مسلم نوجوانوں کو کچلنے کی پوری کوشش کرے گی۔ اور غالب کوئی بھی ملک ان کی مدد کے لئے نہیں آئے گا۔ ۷ دسمبر ۱۹۸۹ دیوار برلن (Berlin wall) ٹوٹ گئی۔ نومبر ۱۹۸۹ء سے مغربی جرمنی اور مشرقی جرمنی کے درمیان آزادانہ آمدورفت شروع ہو گئی۔ ہٹلر نے جرمنی کو بڑا بنانے کے نام پر جو احمقانہ جنگ شروع کی، اس نے صرف یہ کیا کہ جرمنی کو چھوٹا کر دیا۔ اب دوبارہ جرمنی اپنی سابقہ حالت کی طرف جاتا ہوا نظر آتا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا (۷ دسمبر ۱۹۸۹ء) کے صفحہ ۱۰ پر ایک تصویر ہے۔ ایسٹ جرمنی کے شہر لیپزگ (Leipzig) میں مردوں اور عورتوں کا ایک جلوس نکلا۔ وہ مختلف پوسٹر لئے ہوئے تھا۔ ان پوسٹروں پر اس قسم کے الفاظ لکھے ہوئے : نازی دور رہیں (Nazis Keep out) عظیم جرمنی نہیں (Great Germany? No) عظمت کا جنون آخر کار پستی کے غار میں گرا آتا ہے، فرد کو بھی اور قوم کو بھی۔ ہٹلر کی تاریخ اس کی نہایت عبرت ناک مثال ہے۔ مگر آج بھی ایسے افراد اور قومیں دنیا میں موجود ہیں جنہوں نے اس تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ۱۸ دسمبر ۱۹۸۹ ۲۲ نومبر ۱۹۸۹ کے الیکشن کے بعد مسٹر وی پی سنگھ ہندوستان کے وزیراعظم بن گئے ہیں۔ وہ چونکہ سابق راجہ فیملی سے تعلق رکھتے ہیں، اس لئے ان کے حامی پرجوش طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ دہلی کے تخت پر پرتھوی راج چوہان واپس آ گیا ہے۔ اس کے جواب میں ایک کانگریسی ممبر نے کہا چوہان کا اقتدار ۱۹۱ میں ختم ہو گیا تھا، کیا وی پی سنگھ کی حکومت بھی صرف ۱۹۹۱ تک باقی رہے گی ؟

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader