Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 216

By Maulana Wahiduddin Khan

Chauhan's reign ended in 1191 A.D. V.P.'s government also last till 1991? کانگریسی ممبر کے اس جملہ میں کوئی منطقی وزن نہیں۔ اس کے باوجود لفظی حسن اس کے اندر مکمل طور پر موجود ہے۔ الفاظ کا فتنہ بھی کتنا زہر دست ہے۔ ۱۹ دسمبر ۱۹۸۹ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب (مقیم پیرس) پاکستان گئے۔ وہاں انھوں نے جناح ہال لاہور میں تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ پیرس اس وقت یورپ کا سب سے بڑا مسلم شہر بن گیا ہے۔ پیرس میں مسلمانوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔ وہاں لا تعداد مساجد میں ہیں۔ مسلمانوں کے قبرستان علیحدہ ہوگئے ہیں۔ حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ یہ ایک بڑی اقلیت ہے۔ پیرس میں ہر جمعہ کو دو تین آدمی میرے پاس آتے ہیں اور اسلام قبول کرتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ یہ اسلام کیوں لا رہے ہیں، ہمارے پاس تو کوئی ایسی شے نہیں ہے جو انھیں مائل کر سکے۔ ہمارے اندر تو ان کے لئے کوئی کشش نہیں ہے۔ پھر کون سی چیز ہے جو انھیں اسلام کی طرف مائل کر رہی ہے: (ماہنامہ میثاق، لاہور، دسمبر ۱۹۸۹، صفحہ ۶۶ - ۶۷ ) آجکل ساری دنیا میں لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ یہ کسی تبلیغ کے بغیر اپنے آپ ہو رہا ہے۔ جب کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان انتہائی زوال کا شکار ہو چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے لوگ اسلام کو اسلام کے لئے قبول کرتے ہیں نہ کہ مسلمانوں کے لئے۔ ۲۰ دسمبر ۱۹۸۹ ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی امریکہ سے ہندوستان آئے ہیں۔ آج وہ ہمارے مرکز میں آئے۔ وہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں " اسلام" کے بارے میں لیکچر دیتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اسلام کے فقہی مسائل یا علم کلام یا سیاسی نظام وغیرہ کی بات کی جائے تو امریکی طلبہ اس سے زیادہ دلچسپی نہیں لیتے ۔ البتہ اگر اسلامی تصوف پر کہا جائے تو اس کو وہ بہت توجہ اور دلچسپی کے ساتھ سنتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کے انسان کے لئے اسلام کے نظامی اپروچ میں زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ اس کے مقابلہ میں اس کے لئے اسلام کے روحانی اپروچ میں زیادہ دلچسپی ہے. ایسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page