آغازِ کلام
Urdu book, p. 217
By Maulana Wahiduddin Khan
حالت میں کتنی نادانی ہوگی کہ "اسلام کا سیاسی نظام" جیسی کتابیں چھاپ کر مغربی ملکوں میں پھیلائی جائیں۔ کارل مارکس نے فیورباخ (Feuerbach) کے بارہ میں اپنے گیارھویں مقالہ میں کہا ہے کہ فلسفی یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ دنیا کی تعبیر کریں۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کو بدلا جائے: Philosophers have so far tried to interpret the world; the point, however, سو برس پہلے جب یہ بات کہی گئی تو وہ لوگوں کو اتنی اچھی معلوم ہوئی کہ ساری دنیا میں لوگ اس سے مسحور ہوگئے۔ بے شمار لوگوں نے اپنی بہترین صلاحیتیں اس کے لئے وقف کر دیں۔ بے شمار لوگوں نے جان و مال کی قربانیاں دیں۔ یہاں تک کہ اولاروس میں، اور اس کے بعد دنیا کے بہت بڑے حصہ میں وہ اشتراکی تبدیل آگئی جس کا اس نے اظہار کیا تھا۔ مگر آج آخری نتیجہ سامنے آنے کے بعد، یہ اشتراک کی انقلاب سراسر بے معنی ثابت ہوا۔ وہ ان امیدوں میں سے کسی ایک امید کو بھی پورا نہ کر سکا جو اس انقلاب سے ابتداً وابستہ کرلی گئی تھیں۔ ۲۲ دسمبر ۱۹۸۹ امریکہ کا ماہنامہ ریڈرس ڈائجسٹ پندرہ زبانوں میں شائع ہوتا ہے اور اس کی مجموعی اشاعت ۲۸ ملین کاپی ہے۔ اپنی ۷۹ سالہ تاریخ میں پہلی بار اس نے اپنی مالی حیثیت کے بارہ میں اعداد و شمار شائع کئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی میگزین کی سالانہ آمدنی ایک ارب ۸۰ کروڑ ڈالر ہے۔ یہ جدید مسافت کا وہ تصور ہے جو اردو زبان کے وہم و گمان سے بھی زیادہ دور ہے۔ اردو شاعروں کو پڑھئے اور اردو خطیبوں کو سنئے تو ایسا معلوم ہوگا یو ار دو زبان تمام زبانوں کی سرتاج ہے۔ مگر اس کو زمین کے پامال راستوں کے سوا کہیں اور جگہ حاصل نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader