Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹائمنز آف انڈیا (۲۳ دسمبر) کے صفحہ اول کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ ۱۹۸۹ کے آخر میں ہندوستان کے اوپر بیرونی قرضوں کی مقدار 83,000 کروڑ روپیہ تھی۔ اب نئی حکومت کے زمانہ میں اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ ہر نئی حکومت جو منتخب ہو کر آتی ہے، وہ قرض کی مقدار میں اضافہ کرتی ہے۔ اب تک کسی حکومت نے یہ خبر نہیں سنائی کہ اس نے قرضہ میں کمی کی ہے۔ آزادی کے بعد ہمارے یہاں نعروں کی سیاست رائج ہوئی۔ اور نعروں کی سیاست سے اس کے سوا کوئی اور نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ ۲۴ دسمبر ۱۹۸۹ نوائے وقت پاکستان کا مشہور اخبار ہے جو بیک وقت لاہور، کراچی، راولپنڈی اور ملتان سے شائع ہوتا ہے۔ اس کے شمارہ ۱۳ دسمبر ۱۹۸۹ میں قائد اعظم محمد علی جناح کا ایک قول نقل کیا گیا ہے۔ ۱۴ جولائی ۱۹۴۷ کو انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا: "جب آپ جمہوریت کی باتیں کرتے ہیں تو مجھے شبہ ہوتا ہے کہ آپ نے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا ہے۔ ہم نے جمہوریت تیرہ سو سال پہلے سیکھ لی تھی۔ ”قائد اعظم کا یہ پر مغز قول اخبار کے صفحہ ۳ پر درج ہے۔ اس کے بعد اسی اخبار کے صفحہ اول کو دیکھئے ۔ وہاں ایک خبر کے تحت بتایا گیا ہے کہ ۱۲ دسمبر کو پنجاب لاہور میں وزیر قانون اور پارلیمانی امور نصر اللہ خان دریشک (اسلامی اتحاد) ایک قرار داد پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ اپوزیشن (PPP) کے رکن فضل حسین نے کہا کہ ایوان کا کورم پورا نہیں ہے۔ اس لئے ایوان کی کارروائی غیر قانونی ہے۔ وزیر موصوف خاموش نہیں رہے تو فضل حسین نے ان کے پاس جا کر ان کے ہاتھ سے کاغذ چھین لیا۔ اس پر اسلامی اتحاد کے دو ممبر دوڑ کر وہاں پہنچے اور فضل حسین راہی کو ہاتھ سے مارا۔ دونوں ارکان ایک دوسرے کو گندی گالیاں دینے لگے، اور ایک دوسرے پر آوازے کستے رہے۔ اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کا اجلاس ملتوی کر دیا۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی عام تصویر ہے۔ ایک طرف وہ اسلام کے ماضی کا اپنی تاریخ بنا کر اس پر فخر کرتے ہیں، دوسری طرف ان کی عملی حالت یہ ہے کہ مومنوں والا کردار تو درکنار لمحہ دوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page