Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

دالا کردار بھی ان کے اندر نہیں پایا جاتا۔ ہنری وارڈ بیچر (Henry Ward Beacher) ۱۸۱۳ میں امریکہ میں پیدا ہوا ، اور ۱۸۸۷ میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ایک پروٹسٹنٹ لیڈر تھا۔ اپنی غیر معمولی تقریری صلاحیت کی وجہ سے اس نے کافی شہرت حاصل کی۔ بیچر کا ایک قول ہے کہ قانون آقا نہیں ہوتا بلکہ ملازم ہوتا ہے، وہ ان لوگوں کے اوپر حکومت کرتا ہے جو اس کی اطاعت کریں: Laws are not masters but servants, and he rules them who obeys them. یہ انتہائی سادہ اور صحیح بات ہے۔ مگر یہی سادہ اور سچی بات موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں کے لئے بالکل لاعلوم رہی۔ انھوں نے افراد کے مزاج کو بنانے کی کوشش نہیں کی۔ البتہ قانون کے نفاذ کے نام پر حکومتوں سے لڑائی لڑتے رہے۔ مثلاً مصر میں سید قطب اور پاکستان میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی۔ یہ لوگ اس حقیقت کو جانتے تو وہ اپنے ملک کی حکومت سے اعتراض کرتے ہوئے اپنی ساری طاقت افراد کی اصلاح میں لگاتے۔ مگر انھوں نے افراد کی اصلاح کے محاذ کو چھوڑ کر حکومتوں سے ٹکراؤ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی کوششیں رائیگاں ہو کر رہ گئیں۔ ۲۶ دسمبر ۱۹۸۹ء دنیا کی ہر راحت جنت کی ایک جھلک ہے، اور دنیا کی ہر مصیبت جہنم کا ایک تعارف آدمی اگر اس حقیقت کو جان لے تو اس کا ہر دن معرفت کا دن بن جائے۔ اس کا ہر تجربہ اس کے لئے روحانی ترقی کا ذریعہ ثابت ہو۔ ۲۷ دسمبر ۱۹۸۹ء پاکستان کے اخبار نوائے وقت (یکم دسمبر ۱۹۸۹ء) میں "قائد اعظم نے فرمایا" کے زیر عنوان نمایاں طور پر مسٹر محمد علی جناح کا یہ قول نقل کیا گیا ہے ۔ ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا۔ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page