آغازِ کلام
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
کام تو تبلیغی جماعت کر رہی ہے، مگر غیر مسلموں میں دعوت کا کام اس نے چھوڑ رکھا ہے۔ حالانکہ غیر مسلموں کی دعوت کے بغیر مسلمانوں کو خدا کی وہ مدد نہیں مل سکتی جس کا وعدہ غیر مسلموں کے مقابلہ میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو مسلمان خود اصلاح یافتہ نہیں ہیں، پھر وہ غیر مسلموں میں دعوت و تبلیغ کا کام کس طرح کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں عام مسلمانوں کی بات نہیں کر رہا ہوں بلکہ ان مسلمانوں کی بات کر رہا ہوں جو تبلیغ کے ذریعہ اصلاح یافتہ ہو چکے ہیں، اور ایسے لوگوں کی تعداد خود آپ کے بیان کے مطابق لاکھوں ہے۔ پھر میں نے کہا کہ غیر مسلموں میں دعوت کا کام کرنے کی یہ کوئی شرعی شرط نہیں ہے کہ سارے مسلمان اصلاح یافتہ ہو چکے ہوں، اس کے بعد ان کے اندر کام کا آغاز کیا جائے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل بہت زیادہ بگڑ چکے تھے۔ اس کے باوجود حضرت موسیٰ نے مصر کے قبطیوں پر دعوت کا عمل جاری کیا۔ نبوت ملنے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اذھب الی فرعون انہ طغی، تو حضرت موسیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ پہلے بنی اسرائیل کی اصلاح ہو جائے، اس کے بعد فرعون پر دعوتی کام کیا جائے گا۔ بلکہ نبوت ملنے کے بعد نوراً فرعون کے دربار میں پہنچے، اور اس پر دعوتی عمل کا آغاز کر دیا۔ ۲۷ جنوری ۱۹۸۹ پاکستان کے قیام (۱۹۴۷) کے بعد نواب زادہ لیاقت علی خاں (۱۹۵۱ - ۱۸۹۵) اس کے پہلے وزیراعظم بنائے گئے۔ مگر پاکستان کے قیام کے فوراً بعد وہاں قانون اسلامی کے نفاذ کی مہم چل پڑی۔ جماعت اسلامی کے رہنما اور دوسرے اسلامی لیڈروں نے ان کے خلاف تقریریں شروع کیں۔ یہاں تک کہ ایک جنونی آدمی نے ۱۶ اکتوبر ۱۹۵۱ کو انہیں راولپنڈی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ جس زمانہ میں لیاقت علی خاں کے خلاف اسلامی مطالبہ کی مہم جاری تھی، دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی (۱۹۸۳ - ۱۸۹۵) پاکستان گئے۔ وہاں ایک " اسلام پسند" صاحب ان سے ملے۔ ان کی داڑھی مونڈی ہوئی تھی۔ انہوں نے قاری طیب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader