Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں (اسلامیہ کالج، پشاور، ۱۳ جنوری ۱۹۴۸) یہ جملہ گرہر کے لحاظ سے صحیح مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط ہے۔ اسلام کے اصولوں کے تجربہ کا آغاز زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے سے نہیں ہوتا، بلکہ انسان کو حاصل کرنے سے ہوتا ہے۔ ہمارے رہنماؤں کو اپنی ساری کوشش انسان کو بدلنے پر صرف کرنا چاہئیے تھا۔ اس کے بعد پاکستان اپنے آپ قائم ہو جاتا۔ مگر جب انہوں نے انسان کو بدلنے کا کام نہیں کیا تو زمین کا ٹکڑا ملنے کے باوجود مطلوبہ پاکستان نہ بن سکا۔ "پاکستان بناؤ" جیسے نعروں پر فورا بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔ مگر "اننسان بناؤ" کے پیغام پر کبھی بھیڑ جمع نہیں ہوتی ۔۔ یہی وجہ ہے کہ تمام لیڈر پہلی قسم کے نعروں پر دوڑ رہے ہیں۔ کوئی بھی نہیں جو دوسری قسم کے پیغام کو لے کر اٹھے۔ ۲۸ دسمبر ۱۹۸۹ رومانیہ کا اسٹالنسٹ صدر نکولا چا و بسکو کو ۲۵ دسمبر ۱۹۸۹ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔ اس کی بیوی بھی قتل کر دی گئی۔ اس کے بھائی نے خود کشی کر لی۔ پچھلے ۲۴ سال سے وہ رومانیہ کا ڈکٹیٹر بنا ہوا تھا۔ رومانیہ کے تمام ذرائع و وسائل کو اس نے اپنی ذات کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ اس کا غرور اتنا بڑھا ہوا تھا کہ آخر وقت میں اس نے ان فوجی افسروں سے بھی بدتمیزی کے ساتھ بات کی جو اس کے قتل کا فیصلہ کر رہے تھے۔ حالاں کہ اس کے چند لمحہ بعد اس کی خون میں لت پت لاش زمین پر پڑی ہوئی تھی۔ اس سلسلہ کی تفصیلات اور تصویروں کو اخبار میں دیکھ کر میری زبان سے نکلا۔ آدمی کتنا زیادہ مجبور ہے مگر وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ آزاد سمجھتا ہے۔ آدمی کتنا زیادہ عاجز ہے مگر وہ کتنی زیادہ سرکشی کرتا ہے۔ آدمی کتنا زیادہ کمزور ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ جاننے والا سمجھتا ہے۔ آدمی صرف بندہ ہے۔ مگر پہلا موقع پاتے ہی وہ اس طرح عمل کرنے لگتا ہے جیسے کہ وہ اس دنیا کا خدا ہو۔ آج اچاریہ منی سوشیل کمار کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page