آغازِ کلام
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر آخر کار وہاں بغاوتی ہو گئی ۔ اور کمیونزم کو ذلیل ہو کر مشرقی یورپ سے نکلنا پڑا ۔ کشمیر کے دہشت پسند نوجوانوں کے پاس اس طاقت کا ہزار واں حصہ بھی نہیں ہے جو سوویت روس کے پاس تھا۔ ایسی حالت میں جو لوگ اس کو " نظام مصطفیٰ " قائم کرنے کا نام دیں وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جس کا تعلق اسلام سے تو کیا ہو گا ، اس کا تعلق عقل سے بھی نہیں۔ ۴ جنوری ۱۹۹۰ صحیح مسلم میں ہے کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نافع بن عبد الحارث کو مکہ کا حاکم مقرر کیا تھا۔ ایک روز حضرت عمر عسفان میں تھے۔ اتفاق سے نافع بن عبد الحارث بھی وہاں آگئے۔ حضرت عمر نے ان کو عسفان میں دیکھ کر پوچھا کہ مکہ میں تم کس کو اپنی جگہ رکھ کر آئے ہو۔ انھوں نے کہا کہ ابن بزری کو مقرر کیا ہے جو کہ میرا آزاد کردہ غلام ہے۔ حضرت عمر نے کہا : استخلفتی مولی ۔ یعنی ایسی ذمہ داری کے منصب پر تم نے ایک آزاد کردہ غلام کو مقرر کر دیا۔ نافع بن عبد الحارث نے جواب دیا : انہ قارئی الکتاب وعالم بالفرائض (اس نے قرآن کو پڑھا ہے اور وہ فرائض کا عالم ہے) اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ اسلام میں ساری اہمیت آدمی کی لیاقت کی ہے۔ نسل اور رنگ اور رشتہ اور قومیت اور اس طرح کی دوسری چیزیں اسلام میں قابل لحاظ نہیں۔ ۵ جنوری ۱۹۹۰ مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تین دن سے کم میں پورا قرآن پڑھے وہ اس کو سمجھنے سے محروم رہے گا۔ لا یفقہ من یقرأ في اقل من ثلاث)، روایت میں آیا ہے کہ آپ نے حضرت عبد اللہ بن عمر کو سات دن سے کم میں یا پانچ دن سے کم میں قرآن ختم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس طرح کی واضح ممانعت کے باوجود امت میں مسلسل ایسے لوگ پائے گئے ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ روزانہ ایک قرآن ختم کرتے تھے۔ بلکہ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے فضائل میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک دن میں کئی بار قرآن ختم کیا کرتے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader