آغازِ کلام
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
ان لوگوں نے اس بدعت کو اس طرح جائز کیا کہ انھوں نے یہ کہہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو مشقت سے بچانے کے لیے ایسی ہدایت فرمائی تھی۔ مگر یہ تو جبیہ بالکل لغو ہے۔ یہ بے معنی تو جبیہ ان حضرات کے دماغ میں اس لیے آئی کہ انھوں نے "ختم" کو کام سمجھ لیا ، انھوں نے " تدبر " کو کام نہیں سمجھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی اسلامی کام ہی نہیں ہے کہ ایک شخص آندھی اور طوفان کی طرح ہر وقت بس قرآن کے الفاظ دہراتا رہے ۔ قرآن کے سلسلہ میں اصل کام یہ ہے کہ اس پر غور کر کے اس سے ہدایت اخذ کی جائے نہ کہ اس کو فر فر پڑھتے رہنا۔ ۶ جنوری ۱۹۹۰ منشی پریم چند کے لڑکے کے شری امرت لال کی ایک انگریزی کتاب گھر بٹوارہ ہے ۔ یہ کتاب ۱۹۸۴ میں پہلی بار شائع ہوئی ۔ اس میں مصنف نے لکھا تھا : " یہ بالکل غیر ممکن نہیں ہے کہ موجودہ ووٹ زدہ اقتدار کے کھیل میں اردو کو کسی نہ کسی دن ایک علاقائی زبان کی حیثیت سے تسلیم کر لیا جائے ۔ مگر ہم کو یقین ہے کہ ایسا کرنا اس ملک کے مفاد میں نہیں ہو گا۔ کیوں کہ اردو زبان کی حیثیت ایک غیر سیکولر عنصر کی ہے جس میں نہایت طاقتور مذہبی رجحانات موجود ہیں جو سیکولر یک جہتی کے منافی ہیں : اس کتاب کی اشاعت کے پانچ سال بعد اکتوبر ۱۹۸۹ میں یوپی میں (نیز بہار میں) اردو کو علاقائی زبان کی حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا۔ مذکورہ کتاب کے مصنف ، ہندی کے ادیب ہیں ، اور انھیں اردو سے سخت عداوت ہے۔ اس کے باوجود ان کی یہ حقیقت نگاری حیرت انگیز ہے کہ انھوں نے پانچ سال پہلے اس کو سمجھ لیا تھا ۔ جب کہ عام لوگوں کا حال یہ ہے کہ کسی چیز سے انھیں نفرت ہو جائے تو اس کے بارہ میں وہ کسی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں ۔ ۷ جنوری ۱۹۹۰ مولانا ہارون صاحب میواتی (امام کالی مسجد) شام کو ملاقات کے لئے آئے ۔ انھوں نے بتایا کہ راجیو گاندھی حکومت نے ۴ نومبر ۱۹۸۹ کو چارٹرڈ جہاز کے ذریعہ دہلی کے دس علما کو اجودھیا بھیجا تھا۔ اس میں مولانا ہارون صاحب ، مولانا مفتی مکرم صاحب ، مولانا احمد علی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader