آغازِ کلام
Urdu book, p. 228
By Maulana Wahiduddin Khan
قاسمی وغیرہ شامل تھے۔ دہلی سے لکھنؤ تک یہ لوگ ہوائی جہاز سے گئے۔ لکھنؤ اسٹیشن پر ایمبیڈر کاروں کا قافلہ موجود تھا۔ وہ ان کو لکھنؤ سے اجودھیا اس طرح لے گیا کہ ان کے آگے اور پیچھے پولیس کی جیپ چل رہی تھی۔ ۲۲ نومبر ۱۹۸۹ کو جنرل الیکشن ہونے والا تھا۔ ۹ نومبر کو وشو ہندو پریشد وغیرہ نے اجودھیا میں شیلانیاس رکھی۔ مسلمانوں میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ ہندو بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنا رہے ہیں اور کانگریس سرکار ان کو روک نہیں رہی ہے۔ چنانچہ دہلی کے علاقہ کا قافلہ خصوصی اہتمام کے ساتھ اجودھیا لے جایا گیا تا کہ وہ مقامی واقعہ کو دیکھ کر یہ بیان دے دیں کہ بابری مسجد محفوظ ہے، اور شیلانیاس اس کی حد سے دور رکھی گئی ہے۔ الیکشن سے پہلے (اکتوبر۔ نومبر) میں دہلی اور یوپی کے مقامات پر فسادات ہوئے۔ مثلاً بھاگلپور میں ۲۴ اکتوبر کو سخت فساد ہوا۔ مسلمان کہتے ہیں کہ کانگریس حکومت نے فساد کروائے۔ یہ دراصل اپوزیشن کی بولی ہے۔ جو حکومت مسلم ووٹ لینے کے لئے اتنی بے قرار ہو کہ وہ علماء کو خصوصی جہاز سے اجودھیا لے جائے، کیا وہ عین الیکشن سے پہلے مسلمانوں کو مرواے گی تاکہ مسلمان اس کو ووٹ نہ دیں۔ ۸ جنوری ۱۹۹۰ ۱۹۷۷ سے ۱۹۷۹ تک میں الجمعیۃ ویکلی (دہلی) کا ایڈیٹر تھا۔ اس زمانہ میں میں نے الجمعیۃ ویکلی کے تین فائل بنائے۔ جب الجمعیۃ بند ہوا تو اس کے تین مکمل فائل میرے پاس موجود تھے۔ میں نے احتیاط کی غرض سے تینوں فائل تین جگہ رکھوادئے۔ ایک مجلد فائل محمد احمد صاحب (کشن گنج، دہلی) کے گھر پر رکھا۔ اور دوسرا مکمل فائل اپنے بھائی کے پاس، اعظم گڑھ (محلہ بدرسته) بھیج دیا۔ مگر آج میرے پاس صرف وہی ایک فائل محفوظ ہے جو میں نے خود اپنے پاس رکھا تھا۔ محمد احمد صاحب پہلے میرے ہم خیال تھے۔ بعد کو وہ جماعت اسلامی سے متاثر ہوگئے۔ اس کے بعد وہ میرے مخالف بن گئے۔ اس مخالفت میں وہ یہاں تک گئے کہ انھوں نے الجمعیۃ کی فائل، جو ان کے پاس بطور امانت تھی، اس پر قبضہ کر لیا۔ بہت دن تک میں ان سے تقاضا کرتا رہا، جب دیکھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader