Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 229

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ رہ دینے والے نہیں ہیں تو خاموش ہو گیا۔ اعظم گڑھ کے مکان پر جو فائل تھا، اس کی وہ لوگ حفاظت نہ کر سکے۔ ۱۹۸۹ میں میں نے یہ فائل اعظم گڑھ سے منگوائی۔ مگر جو پارسل مجھے ملا اس میں صرف نصف پرچے تھے۔ بقیہ نصف ضائع ہو گئے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ صرف اپنے آپ پر اعتماد کرے۔ اگر اس نے دوسروں کے اعتماد پر کوئی اقدام کیا تو اس کو نہایت تلخ تجربات پیش آئیں گے اور مایوسی اور ناکامی اس پر مستزاد ہوگی۔ ۹ جنوری ۱۹۹۰ اردو اخبارات کے بارہ میں میرا تجربہ اتنا تلخ ہے کہ میں اردو اخبارات کی رپورٹ کی بنیاد پر کبھی کوئی مضمون نہیں لکھتا۔ بار بار کے تجربہ میں میں نے پایا ہے کہ اردو اخبارات کی رپورٹنگ نہایت ناقص ہوتی ہے۔ قومی آواز، اسٹاف کے اعتبار سے اردو کا سب سے معیاری اخبار سمجھا جاتا ہے۔ قومی آواز (دہلی) کے شمارہ ۷ جنوری ۱۹۹۰ میں صفحہ اول پر ایک خبر تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ دو بچوں نے غلطی سے ایک سفوف کھا لیا۔ وہ زہر تھا۔ چنانچہ اس کو کھاتے ہی بچے مرگئے ۔ اس سلسلہ میں یہ جملہ تھا کہ "پولیس کی اطلاع کے مطابق ، ان بچوں نے نمک سمجھ کر کوئی سفید پاؤڈر کھانا شروع کر دیا۔" خبر کا یہ جز مجھے کچھ عجیب سالگا۔ کیوں کہ نمک ایسی چیز نہیں جس کو کوئی شخص کھانا شروع کر دے۔ اس کے بعد میں نے انگریزی اخبار میں اس خبر کو تلاش کیا۔ معلوم ہوا کہ پولیس کے اطلاع نامہ میں شکر (sugar) کا لفظ تھا جس کو اردو اخبار میں نمک بنا دیا گیا۔ یہ وہی خبر ہے جس پر میں نے اپنا مضمون "اخلاقی زہر" لکھا۔ یہ مضمون بعد کو الرسالہ ستمبر ۱۹۹۰ میں شائع ہوا۔ ۱۰ جنوری ۱۹۹۰ مولانا عبدالغفار حسن صاحب فیصل آباد، پاکستان، الرسالہ کے مشن سے پوری طرح متفق ہیں۔ تاہم ان کو ایک اختلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الرسالہ میں پاکستان پر کوئی تنقید نہ کی جائے ۔ ان کا خط مورخہ ۲۱ ستمبر ۱۹۸۹ مجھے بہت دیر سے ملا، اس میں وہ لکھتے ہیں: "ایک ضروری گزارش ہے کہ پاکستان کے بارہ میں آپ کے بعض منفر جملے الرسالہ میں پیش نہ آئیں تو یہاں الرسالہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page