آغازِ کلام
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
صاحب سے کہا کہ آپ پاکستان میں قانون اسلامی کے نفاذ کی مہم کی کھل کر تائید کیوں نہیں کرتے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے۔ اس لئے حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ یہاں فوراً اسلامی قانون کو نافذ کریں۔ قاری طیب صاحب خاموشی سے ان کی گفتگو کو سنتے رہے۔ اس کے بعد مذکورہ اسلام پسند کی داڑھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا؛ آپ اپنے چہرہ کی اس چند انچ جگہ پر تو اسلام کو نافذ نہ کر سکے، پھر سارے ملک میں آپ اسلام کو کس طرح نافذ کریں گے۔ موجودہ زمانہ میں اسلامی حکومت کے علمداروں پر یہ تبصرہ نہایت صادق آتا ہے۔ ان کی زندگیاں حقیقی اسلام سے خالی ہیں اور وہ ساری دنیا میں اسلامی اقتدار قائم کرنے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ سطحی اسلام پسندی کا یہ منظر اس سے پہلے آسمان نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ ۲۸ جنوری ۱۹۸۹ ۲۷ جنوری کو جمعہ تھا۔ ایک امریکی پروفیسر الف سن (Dr Ralph R. Sisson) ہمارے مرکز میں آئے ۔ وہ اسلامی عبادت کے بارہ میں جاننا چاہتے تھے۔ میں نے نماز کی کچھ تفصیلات ان کے سامنے رکھیں۔ انھوں نے بہت دلچسپی لی۔ پھر میں نے کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو ہمارے ساتھ مسجد میں چلیں اور ہمارے ساتھ صف میں شریک ہو کر نماز پڑھیں تاکہ آپ کو اس کا پورا اندازہ ہو جائے۔ وہ فوراً راضی ہوگئے۔ چنانچہ ایک بجے میں ان کو لے کر کالی مسجد (نظام الدین) گیا ۔ وہاں انھوں نے ہمارے ساتھ کھڑے ہو کر دو رکعت جمعہ کی نماز پڑھی۔ واپسی پر میں نے ان سے تاثر پوچھا تو انھوں نے بہت اچھے تاثر کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ میرے لئے نماز کو دیکھنے اور اس کے عمل میں شریک ہونے کا پہلا موقع تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب کہ میں نے اپنا سر اور پیشانی اس طرح سجدہ میں رکھا۔ اس سے میری روح میں ایک عجیب اہتزاز پیدا ہوا ۔ مغرب کے لوگ ہر معاملہ میں بے حد سنجیدہ ہوتے ہیں۔ اگر انھیں تعمیری انداز میں اسلام سے تعارف کرایا جائے تو وہ بہت جلد اسلام سے قریب آجائیں گے۔ مذکورہ امریکی کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader