Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 230

By Maulana Wahiduddin Khan

کے حلقہ کی توسیع بہتر شکل میں ہو سکتی ہے۔ اب جب کہ پاکستان بن چکا ہے تو ایسی تجاویز پیش کی جانی چاہئیں جن سے خرابیوں کی اصلاح ہو اور یہ ملک صحیح معنوں میں اسلامی مملکت بن سکے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ قیام پاکستان کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ پاکستان کی صورت میں تقسیم ملک کی محفوظ ترین تعبیر یہ ہو سکتی ہے کہ اس کو ہجرت قرار دیا جائے۔ مگر ہجرت، ہمیشہ اتمام حجت کے بعد ہوتی ہے، اس سے پہلے نہیں۔ ہندو قوم مسلمانوں کے لئے مدعو کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر مسلمانوں نے قومی سطح پر اپنی جو نمائندگی کی، وہ یہ تھی کہ انہوں نے ہندو قوم کو نہ تو اسلام کی دعوت دی اور نہ ان پر اتمام حجت کیا۔ اس کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ آغاز ہی میں تقسیم ملک کا مطالبہ لے کر کھڑے ہو گئے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی مثال بتاتی ہے کہ دعوت دینے کے باوجود اگر داعی اس کو اتمام حجت تک پہنچائے بغیر ہجرت کر جائے تو اس کو دوبارہ قوم کی طرف واپس آنا پڑتا ہے۔ پھر کیا پاکستانی مسلمان اللہ تعالیٰ کے یہاں حضرت یونس سے بھی زیادہ اونچا مقام رکھتے ہیں کہ انھیں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا نہ پڑے۔ میرے نزدیک پاکستانی مسلمانوں کی نجات صرف اس میں ہے کہ وہ حضرت یونس علیہ السلام کی طرح اپنی ہجرت کو خطا قرار دے کر اس سے واپس لوٹیں۔ اس واپسی سے میری مراد ارضی اور جغرافی واپسی نہیں ہے بلکہ مزاجی اور فکری واپسی ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں نے تقسیم کے بعد "ہندو و نفرت" پر اپنی قومی پالیسی کی بنیاد رکھی ہے۔ اس نفرت کو انھیں ذبیح کرنا ہو گا۔ سیاسی ڈپلومیسی کے طور پر نہیں بلکہ داعیانِ خیر خواہی کے تحت انھیں ہندو قوم سے خوشگوار تعلق قائم کرنا ہوگا۔ اور یہ سب کچھ یک طرفہ طور پر کرنا ہو گا۔ یہی ان کی واپسی ہے اور اس واپسی کے بغیر پاکستانیوں کے لئے کامیابی کا دروازہ نہیں کھل سکتا۔ ۱۱ جنوری ۱۹۹۰ ہر آدمی دوسروں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے، مگر کوئی آدمی نہیں جو اپنے آپ کو مرتا ہوا دیکھے۔ دوسروں کی موت کو آدمی صرف دوسروں کی موت سمجھ لیتا ہے۔ دوسروں کی موت میں وہ اپنی موت کی تصویر نہیں دیکھ پاتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page