آغازِ کلام
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اپنی موت کا اور ایک اپنی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ یہ اپنی ہلاکت سے واقف ہونا ہے۔ اور کون ہے جو خود اپنی نفی کرے۔ کون ہے جو اپنے آپ کو ہلاکت کے تختہ پر چڑھائے۔ ۱۲ جنوری ۱۹۹۰ء ایک مفکر کا قول ہے کہ مصیبت کے وقت جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صرف امید ہے: In adversity a man is saved by hope. یہ بات نہایت صحیح ہے۔ میں اس میں صرف یہ اضافہ کر دوں گا کہ امید کا سب سے بڑا سر چشمہ اللہ کی ذات پر یقین ہے۔ ہر دوسری چیز جس سے امید قائم کی جائے ، کہیں نہ کہیں اس کی حد آ جاتی ہے، کسی نہ کسی وقت وہ آدمی کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ مگر جو شخص اللہ کو پاکر اپنی امید میں اس سے وابستہ کرلے، اس کے لئے کوئی حد نہیں۔ وہ امید کا ایسا سراپا لیتا ہے جو کسی بھی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔ ۱۲ جنوری ۱۹۹۰ء موجودہ زمانہ کے ملحد مورخین مذہب کو ایک سماجی منظر (Social phenomenon) کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین اسلام کو ایک تاریخی منظر (Historical phenomenon) کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بظاہر دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ کیوں کہ دونوں ہی اس واقعہ سے بے خبر ہیں کہ مذہب اصلا ایک روحانی ڈسپلن ہے۔ سچا مذہب فرد انسانی میں ربانی حقیقت کے تمکن سے پیدا ہوتا ہے۔ مذہب ایک لطیف ترین دریافت ہے۔ ایک شخص پر جب حقیقت خداوندی کا انکشاف ہوتا ہے، اور اس کے مقابلہ میں وہ اپنی عبدیت کو دریافت کرتا ہے تو اسی کا نام مذہب ہے۔ مذہب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے نہ سماجی ظاہر ہے اور نہ تاریخی ظاہر ہو۔ مذہب دراصل ایک نفسیاتی ظاہر ہے۔ مذہب یہ ہے کہ ایک انسان ربانی انسان بن جائے۔ یہ پورا واقعہ نفسیات کی سطح پر ہوتا ہے۔ اس واقعہ کے خارجی اثرات حسب حالات سماج اور تاریخ پر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ مگر وہ مذہب کا خارجی ظہور ہے نہ کہ مذہب کی اصل حقیقت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader