آغازِ کلام
Urdu book, p. 232
By Maulana Wahiduddin Khan
کراچی کے انگریزی ہفت روزہ 'دی مسلم ورلڈ' کے شمارہ ۱۶ دسمبر ۱۹۸۹ء کے ایک مضمون کو دیکھ کر مذکورہ بالا تاثرات میرے ذہن میں آئے۔ لارڈ چیسٹر فیلڈ (Chester Field) ۱۴۹۴ میں لندن میں پیدا ہوا، اور ۷۳ء میں لندن ہی میں اس کی وفات ہوئی۔ ٹائمز آف انڈیا (۱۳ جنوری ۱۹۹۰) نے اس کا ایک قول نقل کیا ہے کہ سیاست داں نہ محبت کرتے ہیں اور نہ نفرت۔ جذبات نہیں بلکہ مفاد ان کی رہنمائی کرتے ہیں: Politicians neither love nor hate. Interest, not sentiment, directs them. مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے روزانہ یہ شکایت کر رہے ہیں کہ سیاست داں اور حکمراں ان کے دشمن ہیں ۔ وہ ان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ اس قسم کی شکایت بالکل لغو ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مسلمان سیاسی لیڈروں کو یہ یقین نہیں دلا سکے کہ ان کا مفاد اس میں ہے کہ وہ مسلمانوں کا ساتھ دیں۔ اس لئے وہ ان لوگوں کا ساتھ دے رہے ہیں جس کا ساتھ دینے میں انہیں اپنا سیاسی فائدہ نظر آتا ہے۔ اس معاملے میں شکایت اور احتجاج سراسر احمقانہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اندر کوئی ایسی خصوصیت پیدا کریں کہ سیاسی لیڈروں کا مفاد ان سے وابستہ ہو جائے۔ اس کے بعد وہ دیکھیں گے کہ سیاسی لیڈروں کے بارہ میں ان کی شکایت اپنے آپ ختم ہو گئی ہے۔ ۱۵ جنوری ۱۹۹۰ قرآن میں ہے کہ تیرے رب کی قسم ہم ان سے ضرور پوچھیں گے (الحجر ۹۲) دوسری طرف قرآن میں ہے کہ اُس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کی بابت نہ پوچھا جائے گا (الرحمن ۳۹) بظاہر ان دونوں آیتوں میں تضاد ہے۔ ایک آیت میں ہے کہ ضرور سوال کیا جائے گا، اور دوسری آیت میں ہے کہ سوال نہ کیا جائے گا۔ مگر یہ تضاد کی بات نہیں۔ اصل یہ ہے دونوں جگہ سوال کا لفظ الگ الگ مفہوم میں ہے۔ ایک سوال وہ ہے جو تحقیق حال کے لئے کیا جائے۔ آخرت میں اس قسم کے سوال کی ضرورت نہ ہوگی۔ کیوں کہ وہاں سب کچھ عیاں ہو جائے گا۔ آدمی کے ارادے اور اس کی نیتیں اس طرح اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader