Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 233

By Maulana Wahiduddin Khan

میں آخرت میں کسی مجرم سے اس نوعیت کی پوچھ گچھ کی ضرورت نہ ہوگی جو دنیا کی پولیس کو پیش آتی ہے۔ دنیا میں لوگ باعتبار ظاہر دکھائی دیتے ہیں، آخرت میں لوگ باعتبار باطن دکھائی دیں گے۔ دوسرا سوال وہ ہے جو توزیع کے لئے کیا جائے۔ اس قسم کا سوال آخرت میں لوگوں سے ہوگا۔ یہ گویا یہ شکل سوال ان کی بابت اس فیصلے کا اعلان ہوگا جس سے وہ انکار کی جرات نہ کرسکیں گے۔ ۱۴ جنوری ۱۹۹۰ سید ازہر حسن موہانی (۱۸۸۱-۱۸۵۱) کے لڑکے فضل الحسن حسرت موہانی کو سید الاحرار کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ۱۹۰۳ میں علی گڑھ سے بی اے پاس کیا۔ ان کو انگریزوں سے اور انگریزی سامان سے شدید نفرت تھی۔ وہ ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے سب سے پہلے عدم تعاون کا نعرہ بلند کیا۔ ماہنامہ جامعہ (نومبر ۱۹۸۹) میں حسرت موہانی پر ایک مضمون ہے۔ اس میں ایک واقعہ ان الفاظ میں درج ہے: بائیکاٹ اور سدلیشی تحریک کے دوران انھیں اپنے ایک دوست کے یہاں ٹھہرنے کا اتفاق ہوا۔ شدید سردیوں کے دن تھے۔ رات کو اوڑھنے کے لئے میزبان نے انھیں ایک کمبل دیا۔ یہ کمبل چونکہ سدلیشی نہیں تھا، اس لئے حسرت موہانی نے ساری رات سردی میں ٹھہر ناگوار کیا۔ مگر کمبل استعمال نہیں کیا (صفحہ ۸) موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کے اس قسم کے واقعات جن کو فخر کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، وہ صرف نادانی کے واقعات ہیں۔ ان کی کوئی اہمیت نہ دین کے اعتبار سے ہے اور نہ دنیا کے اعتبار سے۔ ۱۷ جنوری ۱۹۹۰ اطہر صدیقی صاحب (منٹور روڈ، نئی دہلی) نے ایک واقعہ بتایا۔ یہ واقعہ ۱۵ جنوری ۱۹۹۰ء کو دہلی کے ہولی فیملی اسپتال میں پیش آیا۔ مفتی عبد الخالق (مفتی دادہ، میرٹھ) ہولی فیملی میں داخل تھے۔ ان کو پیشاب میں تکلیف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page