آغازِ کلام
Urdu book, p. 234
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو گئی تھی اور وہاں ان کا آپریشن ہونا تھا۔ ان کی لڑکی نازلی آل انڈیا میڈیکل ریسرچ انسٹی ٹیوت میں ملازم ہے۔ اسی ٹیلوٹ میں کینسر ریسرچ کا اسپتال (IRCH) ہے، وہاں نازلی لیبوٹری میں ٹیکنیشین کے طور پر کام کرتی ہے۔ کینسر ریسرچ کے اس ادارہ میں ڈاکٹر راجیو کمار پروفیسر ہیں اور لیبوٹری کے انچارج بھی ہیں۔ نازلی نے ڈاکٹر راجیو کمار سے ۱۵ جنوری کے لئے چھٹی لی۔ اس نے ڈاکٹر راجیو کمار کو بتایا کہ اسی دن میرے والد کا ہولی فیملی اسپتال میں صبح ۸ بجے آپریشن ہے، اس لئے میں نہ آسکوں گی۔ ۱۵ جنوری کو تقریباً پونے نو بجے ڈاکٹر راجیو کمار اچانک ہولی فیملی آگئے۔ انھوں نے دیکھا کہ مفتی عبد الخالق ابھی تک آپریشن تھیٹر میں نہیں گئے ہیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اسپتال والے خون مانگ رہے ہیں، اور بچوں کہ مفتی صاحب کا کوئی دوست یا رشتہ دار خون دینے کے لئے موجود نہیں اس لئے آپریشن روک دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر راجیو کمار نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو میں اپنا خون دیتا ہوں۔ مفتی عبد الخالق صاحب نے منع کیا۔ ڈاکٹر راجیو کمار نے کہا کہ اگر آپ اس لئے منع کر رہے ہیں کہ میں ہندو ہوں تو البتہ دوسری بات ہے، اور نہ میں خون دینے کے لئے تیار ہوں۔ خلاصہ یہ کہ ڈاکٹر راجیو کمار نے اس وقت پانچ سو سی سی (CC) خون دیا۔ اس کے بعد مفتی عبد الخالق کا آپریشن ہوا۔ ڈاکٹر راجیو کمار کا خون کا بلڈ گروپ بی ہے۔ ہولی فیملی میں کثرت سے مسلمان ہوتے ہیں، مگر کسی نے اپنا خون نہیں دیا۔ اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ ہندو ایک جاندار قوم ہیں۔ افسوس کہ مسلمانوں نے ہندو قوم کو نہیں پہچانا۔ اور انتہائی احمقانہ طور پر ہندوؤں کو اپنا دشمن بنالیا۔ ۱۸ جنوری ۱۹۹۰ ۲ نومبر ۱۹۸۹ کو جے پور میں فرقہ وارانہ فساد ہوا۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ ۲۱ و ۲۲ نومبر کے الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ۸۸ ممبر کامیاب ہو کر ہندوستانی پارلی منٹ میں پہنچ گئے۔ اس کے بعد انھوں نے فتح کی خوشی منائی۔ چنانچہ جب جے پور میں بھی فتح کا جلوس نکالا گیا۔ اس جلوس میں اس قسم کے نعرے لگائے جا رہے تھے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader