آغازِ کلام
Urdu book, p. 235
By Maulana Wahiduddin Khan
بچہ بچہ رام کا ، باقی سب حرام کا مسلمان کے دو استھان ، پاکستان یا قبرستان اس پر مسلمان بھڑک اٹھے۔ انھوں نے جلوس پر پتھراؤ کیا۔ اب دونوں فرقوں میں ٹکراؤ شروع ہو گیا۔ مسلمانوں نے ہندوؤں کو نقصان پہنچایا ، ہندوؤں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔ قتل ، آتش زنی ، لوٹ سے پورا شہر قبرستان ہو گیا۔ مسلمانوں کا زیادہ نقصان ہوا۔ (قومی آواز ۱۹ جنوری ۱۹۹۰) ان فسادات کا علاج میرے نزدیک صبر و اعراض ہے۔ مسلمان اگر صبر کر لیں تو فساد اول مرحلہ ہی میں ختم ہو جائے اور جان و مال کے نقصان کی نوبت نہ آئے۔ ان ہند و مسلم فسادات کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس ملک میں دعوت کے تمام مواقع بالکل برباد ہو کر رہ گئے ہیں۔ ۱۹ جنوری ۱۹۹۰ ملی جمیعت علماء کا ایک وفد بھاگل پور گیا تاکہ ۲۴ اکتوبر ۱۹۸۹ کو ہونے والے فساد کا جائزہ لے۔ اس کی رپورٹ مولانا محمد حنیف صاحب (مالیگاؤں) کے قلم سے شائع ہوئی ہے۔ آغاز میں فرماتے ہیں: "ہندوستان میں فسادات مسلمانوں کا مقدر بن چکے ہیں۔ تقسیم کے بعد یہ سلسلہ شروع ہوا تو آج تک باقی ہے۔ بھارت کھرن کا خواب دیکھنے والے متعصب ہندو کسی طرح یہ نہیں چاہتے کہ مسلمان ہندوستان میں اپنے کردار ، اسلامی روایات اور مذہبی تشخص کے ساتھ انفرادی حیثیت سے زندہ رہیں ۔ لیکن انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام اور مسلمانوں کے سوا کوئی قوم نہیں جس کے پاس اخلاق و کردار اور عقیدہ و فقر کی وہ انمول تو دریں موجود ہوں جس پر مذہب کی بنیاد قائم ہے؟ (ہفت روزہ ملی جمیعت ، ۱۲ جنوری ۱۹۹۰) یہ بات ایک یا دوسرے لفظ میں موجودہ ہندوستان کے تمام مسلم رہنما کہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف فساد اس لئے ہوتا ہے کہ وہ اسلامی تشخص کے ساتھ اس ملک میں رہنا چاہتے ہیں۔ یہ بات سراسر لغو ہے ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ قرآن کے صریح بیان سے ٹکرار ہی ہے۔ قرآن میں تو یہ ہے کہ انتم الاعلون ان کنتم مومنین (آل عمران ۱۳۹)، اور ان تصبرو ا وتتقو لا يضركم كيدهم شيئا (آل عمران ۱۲۰)، ان آیات کے مطابق اسلامی تشخص کسی مسلم قوم کو ضرر سے محفوظ رکھتا ہے ، وہ اس کے لئے سر بلندی کی ضمانت ہے ، اسے حالت میں کیوں کہ ممکن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader