آغازِ کلام
Urdu book, p. 236
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ اسلامی تشخص ہی کسی قوم کو مبتلائے فساد کرنے کا سبب بن جائے۔ آج کے اخبارات میں رج نیش کی موت کی خبر تھی۔ خبر کے مطابق ، پونہ کے رج نیش پورم میں رج نیش پر دل کا دورہ پڑا اور اس میں ان کا انتقال ہو گیا۔ بوقت انتقال ان کی عمر ۵۸ سال تھی۔ رج نیش کی انگریزی میں تقریر بر آڈیو کیسٹ اور ویڈیو کیسٹ پر) میں نے سنی ہے۔ اس کے اندر تقریر کا غیر معمولی ملکہ تھا۔ اس نے اپنی اس صلاحیت کی بنا پر بے شمار لوگوں کو متاثر کیا۔ امریکہ کی فورڈ کمپنی کا موجودہ وارث بھی ان کے شاگردوں میں تھا۔ وہ ہیرے کی گھڑی پہنتا تھا۔ اس کے پاس ۹۱ رولس رائس کاروں کا قافلہ تھا۔ وغیرہ، وغیرہ۔ پہلے وہ اچاریہ رج نیش کہے جاتے تھے۔ اس کے بعد بھگوان رج نیش کہے جانے لگے۔ آخر میں انھوں نے ، اپنے کو صرف رج نیش کہلانا پسند کیا۔ بے شمار دولت اور لاکھوں معتقدین کے باوجود ان کی زندگی آخر میں نہایت خستہ ہو گئی۔ ہندوستان ٹائمز (۲۰ جنوری ۱۹۹۰ء) میں رج نیش کی آخری دنوں کی تصویر ہے۔ اس میں وہ اپنا دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھائے ہوئے ہیں جس طرح مسلمان دعا کے وقت دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں۔ رج نیش نے خدا بننا چاہا۔ مگر ان کے آخری انجام نے انھیں بتا دیا کہ انسان بندہ ہے ، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ۲۱ جنوری ۱۹۹۰ء ایک انگریزی داں مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ہندوؤں کی اور ہندوستانی حکومت کی سخت برائی کرتے رہے۔ یہ قوم حد درجہ متعصب ہے۔ یہ انتہائی تنگ نظر ہے۔ اس کا مذہب صرف خود غرضی ہے۔ مسلمانوں کی وہ بدترین دشمن ہے۔ وغیرہ۔ مگر تفصیلات معلوم کرنے کے بعد میرا فیصلہ یہ تھا کہ غلطی خود مذکورہ مسلمان کی ہے۔ وہ ۱۹۵۰ء میں ہندوستان چھوڑ کر لندن چلے گئے۔ وہاں انھوں نے برٹش پاسپورٹ لے لیا۔ وہ پاکستانیوں کی مدد سے انگریزی میں ایک اخبار (مسلم نیوز) نکالتے رہے۔ اس میں مسلمانوں کے عام انداز کے مطابق ہندوستان مخالف مضامین شائع ہوتے تھے۔ لندن میں یہ اخبار نہ چل سکا۔ اس کے بعد وہ پاکستان چلے گئے اور وہاں سے دوبارہ اپنا اخبار جاری کیا۔ مگر پاکستان میں بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader