Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 237

By Maulana Wahiduddin Khan

بالآخر اس کو بند کرنا پڑا ۔ اس کے بعد وہ ہندوستان لوٹ آئے۔ اب انہیں شکایت ہے کہ ہندوستانی حکومت انہیں شہریت نہیں دے رہی ہے۔ یہی عام مسلمانوں کا مزاج ہے وہ چاہتے ہیں کہ وہ جو چاہیں کریں ، مگر انہیں اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا نہ پڑے۔ جو شخص ہندوستان چھوڑ دے اور انگلینڈ اور پاکستان سے ایسا اخبار نکالے جو ہندوستان کی نظر میں قابل اعتراض ہو، اس کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو مذکورہ سلمان کے ساتھ ہوا۔ مگر انہیں اپنی غلطی کا اعتراف نہیں۔ ۲۲ جنوری ۱۹۹۰ء " افسانہ " سے متعلق مضمون میں یہ سطریں پڑھنے کو ملیں : افسانوں کا فن ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعہ داری کو گرفت میں لے کر اس طرح متاثر کیا جا سکتا ہے کہ اسے اس کی خبر تک نہیں ہونے پاتی۔ جذباتی تاثر کے لئے یہ بات صحیح ہو سکتی ہے۔ مگر کسی حقیقی ذہنی تبدیلی کے لئے یہ بالکل بے معنی بات ہے۔ ذہنی تبدیلی ایک شعوری واقعہ ہے۔ جب تک آدمی کے شعور کو بدلا نہ جائے ، اس کے اندر کوئی ذہنی انقلاب نہیں آ سکتا۔ اور شعوری تبدیلی ایک باخبر کی کا عمل ہے، اس کو بے خبری کے ذریعہ ظہور میں لانا ممکن نہیں۔ ۲۲ جنوری ۱۹۹۰ء بدر الدین احمد صاحب (پیدائش ۱۹۳۸، مراد آباد کے رہنے والے ہیں۔ وہ کئی سال سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے الرسالہ سے کیا سبق لیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سا سبق۔ اس میں سے خاص سبق جو میں نے لیا وہ اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ الرسالہ کے علاوہ میں نے کہیں صبر و اعراض کی بات نہیں سنی۔ حالاں کہ یہ زندگی کا راز ہے۔ اور خود میں نے اپنے تجربہ میں پایا ہے کہ یہ مسائل کا بہترین حل ہے۔ الرسالہ کے پڑھنے والے بیشتر لوگ اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے قوم کے افراد کو صرف لڑانا بھڑانا ، جلسہ جلوس کرنا ، نعرہ لگانا سکھایا۔ کسی نے بھی یہ نہیں کیا کہ وہ لوگوں کو زندگی کار از بتائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page