آغازِ کلام
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
پچھلے چند مہینوں سے کشمیر میں توڑ پھوڑ کی سیاست جاری ہے۔ ہندوستان میں ان لوگوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ مگر کشمیر میں ان کو مجاہد، جنگ جو اور حریت پسند کے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ اس وقت تقریباً بیس تنظیمیں کشمیر میں سرگرم ہیں: کشمیر لبریشن فرنٹ، پیپلز لیگ، آپریشن بالاکوٹ، حزب اسلامی، حزب اللہ، اللہ ٹائگرز، حزب المجاہدین، ضیا ء ٹائگرنز، ضرب مومن، حزب جہاد، اسلامک اسٹوڈنٹس لیگ، البدر، حزب مومن، العمر مجاہدین، اسٹوڈنٹس لبریشن موومنٹ، الاکر ملا، الخمینی، حسینی ٹائیگرز۔ وغیرہ آخری ۳ تنظیمیں شیعہ مسلمانوں کی ہیں، اور بقیہ سنی مسلمانوں کی ۔ ہر تنظیم آزاد ہے۔ ان میں سے کچھ تنظیمیں آزاد کشمیر کا نعرہ لگا رہی ہیں اور کچھ الحاق پاکستان کا۔ کچھ تنظیمیں سیکولر ہیں اور کچھ اسلامی نعرے استعمال کر رہی ہیں۔ اس قسم کی تحریک جیسی کہ آجکل کشمیر میں اٹھی ہے، اس کے لئے صرف دو میں سے ایک تباہی مقدر ہے۔ یا تو یہ کہ ہندوستان اس کو فوجی طاقت سے کچل دے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ یہ تحریک اپنے مقصد کو پالے اور کشمیر کو آزادی حاصل ہو جائے۔ مگر یہ کامیابی بھی بہت جلد ناکامی میں تبدیل ہو جائے گی۔ کیوں کہ جو لوگ آج ہندوؤں سے لڑ رہے ہیں وہ آئندہ خود آپس میں لڑینگے۔ ۲۵ جنوری ۱۹۹۰ آج میں نے اپنے لڑکے ثانی اثنین کو اپنے کمرہ میں بلایا۔ میں نے کہا کہ میری صحت اب بہت کمزور ہو گئی ہے۔ کچھ نہیں معلوم کہ میری زندگی کے کتنے دن اور باقی ہیں۔ میں نے کئی بار سوچا کہ میں اپنے بعد کے لئے تم کو کچھ نصیحت یا ہدایت لکھ دوں۔ اس سلسلہ میں کئی کاغذ لکھے۔ مگر لکھ کر انھیں پھاڑ تارہا۔ کوئی نصیحت یا وصیت نامہ مجھے کافی نظر نہیں آیا۔ میری زندگی کا تجربہ یہ ہے کہ حالات اتنے غیر متوقع طور پر بدلتے ہیں کہ پیشگی طور پر کوئی شخص ان کو جان نہیں سکتا اور نہ ان کے بارہ میں کوئی صحیح نصیحت کر سکتا۔ اس لئے اب میں اپنے بعد کے لئے نہ تمہیں کوئی مشورہ دے رہا ہوں اور نہ کوئی وصیت ۔ صرف ایک بات کی تم کو تاکید کرتا ہوں، اور وہ دعا اور استخارہ ہے۔ میرے بعد جو بھی صورت پیش آئے، تم ہمیشہ دعا اور استخارہ کرتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader