Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 239

By Maulana Wahiduddin Khan

رہنا۔ یہی واحد آخری نصیحت ہے جو میں تم کو کر رہا ہوں۔ میں خود ساری زندگی دعا اور استخارہ کے تحت کام کرتا رہا ہوں، تم بھی یہی کرنا۔ انشاء اللہ تم کو اللہ تعالی کی طرف سے رہنمائی ملتی رہے گی۔ سوویت روس کا وہ حصہ جو ترکی اور ایران سے ملتا ہے، اس میں آجکل جنگ جاری ہے۔ یہاں آذر بائیجان کے علاقہ میں شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اور آرمینیا کے علاقہ میں عیسائیوں کی اکثریت ۔ عیسائی تعلیم اور تنظیم میں آگے ہونے کی وجہ سے اس علاقہ کے اہم اقتصادی اداروں پر قابض ہیں، حتی کہ آذر بائیجان کے مسلم علاقہ میں بھی۔ اس کے خلاف عرصہ سے مسلمانوں میں ناراضگی پائی جاتی تھی۔ ایران نے اس کو شہ دیا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں لڑائی شروع ہوگئی۔ روسی حکومت نے اس کو دبانے کی کوشش کی تو وہ لوگ خود حکومت سے لڑاگئے۔ آجکل اخبارات میں روزانہ اس کی خبریں آرہی ہیں۔ یہی صورتحال اکثر مقامات پر ہے۔ مگر یہ اقتصادی پس ماندگی کو دور کرنے کا طریقہ نہیں۔ اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پچھڑے ہوئے طبقات میں علم اور شعور پیدا کیا جائے۔ دوسروں سے لڑکر کوئی قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ ۲۷ جنوری ۱۹۹۰ نظام الدین ایسٹ میں ایک مسلم اسکول (نیو ہورائزن) ہے۔ یہاں اوکھلا کا ایک مسلم لڑکا زیر تعلیم ہے۔ اس لڑکے نے اپنے گھریا مسلمانوں کی مجلس میں ہندومسلم فساد کا ذکر سنا تھا۔ اس کے مطابق اس نے کہا کہ ہندو بہت ظالم ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو جلاتے ہیں ، مارتے ہیں ۔ وغیرہ۔ میں اس کی باتیں خاموشی سے سنتا رہا۔ آخر میں میں نے کہا کہ اگر ایک لڑکا آئے اور تم کو ایک گھونسا مارے تو تم کیا کرو گے۔ اس نے جوش کے ساتھ کہا کہ میں اس کو سو گھونسا ماروں گا۔ میں نے کہا کہ ہند ومسلم فساد کا قصد بھی یہی ہے۔ مسلمان ہندوؤں کو ایک گھونسا مارتے ہیں تو ہندو انہیں سو گھونسا مارتے ہیں۔ مسلمان ہندوؤں کے جلوس پر پتھر پھینکتے ہیں تو ہندو ان کے اوپر گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم گھر اپنے نوجوانوں کو کس قسم کی تربیت دے رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page