آغازِ کلام
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹائمس آف انڈیا میں ہر روز ایڈنیور یل کے صفحہ پر ایک مقولہ درج کیا جاتا ہے۔ اس کے شمارہ ۲۸ جنوری ۱۹۸۹ میں جو مقولہ نقل کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ کیوں اکثر لوگ مواقع کو پہچاننے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مواقع ہمیشہ سخت محنت کے بھیس میں آتے ہیں : The reason many people fail to recognise opportunity is because it comes یہ نہایت صحیح بات ہے جو اس چھوٹے سے فقرہ میں کہی گئی ہے۔ مواقع سے فائدہ اٹھانا حقیقی عمل چاہتا ہے ، اور حقیقی عمل ہمیشہ دیر طلب اور محنت طلب ہوتا ہے۔ لوگ مواقع کو جاننے کے باوجود اس سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے ، کیوں کہ وہ لمبی مدت تک سخت محنت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ ۳۰ جنوری ۱۹۸۹ فرانسیسی مفکر ارنسٹ رینان (Ernest Renan) ۱۸۲۳ میں پیدا ہوا ، اور ۱۸۹۲ میں پیرس میں اس کا انتقال ہوا۔ وہ دور جدید کے مشہور فلسفیوں میں سے ہے۔ عرصہ ہوا میں نے کہیں پڑھا یا سنا تھا کہ جمال الدین افغانی نے، جب کہ وہ پیرس میں تھے، ارنسٹ رینان کو اسلام کا پیغام دیا تھا۔ مجھے خوشی تھی کہ سید جمال الدین نے کم از کم ایک صحیح کام کیا۔ مگر حال ہی میں میری یہ خوش فہمی ختم ہوگئی۔ جنیوا (سوئزر لینڈ) سے ایک مجلہ انگریزی اور عربی میں نکلتا ہے۔ اس کا نام العروۃ الوثقیٰ ہے۔ یہ سید جمال الدین افغانی کے عربی جریدہ کا احیاء ہے جو اسی نام سے پیرس سے جاری ہوا تھا۔ اس کے شمارہ نمبر ۵۰ (۱۹۸۸) میں چھ صفحہ کا ایک مضمون ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ۱۸۸۳ میں ارنسٹ رینان کا ایک بیان پیرس کے ایک فرانسیسی جریدہ (Journal des Debats) کے شمارہ ۱۸۸۳ئی میں شائع ہوا تھا۔ سید جمال الدین افغانی نے اس کا عربی ترجمہ پڑھا تھا اور اس سے متاثر ہو کر ایک مضمون مذکورہ فرانسیسی جریدہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader