Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 240

By Maulana Wahiduddin Khan

محمد یونس سلیم صاحب (پیدائش ۱۹۱۲) ملاقات کے لئے آئے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد کے ایک مسلم نوجوان نے دہلی میں تقریر کی ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری جو مانگ ہے اس کو پہلے ہم نے اردو میں کہا ، مگر آپ نے کچھ نہیں کیا۔ ہم نے خیال کیا کہ آپ شاید اردو نہیں سمجھتے۔ اس کے بعد ہم نے انگریزی میں اپنی مانگ آپ کے سامنے رکھی۔ مگر اب بھی آپ نے کچھ نہیں کیا۔ اب ہم نے طے کیا ہے کہ پنجابی میں آپ سے بات کریں۔ شاید یہی ایک زبان ہے جس کو آپ سمجھ سکتے ہیں۔ (پنجابی زبان سے مراد تشدد کی زبان ہے) یہی موجودہ مسلمانوں کا عام ذہن ہے۔ کوئی اس بات کو ایک لفظ میں کہتا ہے اور کوئی دوسرے لفظ میں۔ یہ باتیں صرف مسلمانوں کی مایوس نفسیات کی علامت ہیں، وہ اصل مسئلہ کا کوئی حل نہیں۔ ۲۹ جنوری ۱۹۹۰ تقسیم کے بعد ہندستان کے مسلمان عام طور پر پاکستان کی طرف دیکھنے لگے تھے۔ لوگوں کے ذہن میں پاکستان کا ایک افسانوی تصور تھا۔ ہر آدمی اس انتظار میں رہتا تھا کہ موقع ملے تو وہ پاکستان چلا جائے، تاکہ وہ اپنے خوابوں کی دنیا بسا سکے اور وہاں ترقی کرے ۔ مگر ۱۹۷۱ میں جب خود پاکستان کے دو حصے (مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان) آپس میں بدترین لڑائی لڑے اور بالآخر دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوگئے تو مسلمانوں کے اندر نئی سوچ پیدا ہوئی۔ انھوں نے محسوس کیا کہ انھیں ہندستان میں ہی رہنا ہے اور یہیں کام کرنا ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ ۱۹۷۱ کے بعد ہندستان کے مسلمانوں نے اقتصادی میدان میں کافی ترقی کی ہے۔ اور اس کی وجہ ان کا یہی ذہنی استحکام ہے جو بنگہ دیش بننے کے نتیجہ میں ان کے اندر پیدا ہوا۔ اب شاید اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کا دوسرا انتظام کشمیر کی صورت میں کیا ہے۔ ۱۹۸۹ کے آخر میں کشمیر میں دہشت گردی شروع ہوئی جواب شدت کے ساتھ جاری ہے۔ کشمیر کے مسلمان "آزاد کشمیر کا نعرہ لے کر کھڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان در پردہ ان کا ساتھ دے دیتا ہے۔ اور بموں اور گولیوں کے ذریعہ یہ تحریک پورے زور شور کے ساتھ چلائی جارہی ہے۔ مگر تقریبا یقینی ہے کہ ہندستان اپنی فوجی قوت کے ذریعہ اس تشدد دانہ تحریک کو کچل دے گا۔ اس کے بعد کشمیری بالکل خاموش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page