آغازِ کلام
Urdu book, p. 241
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو کر ہندوستان کا حصہ بن کر رہنے لگیں گے۔ جس دن ایسا ہوگا اس دن ہندستانی مسلمانوں کی اصلاح کا کام مکمل ہو جائے گا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ان کے اندر عدم برداشت کا مزاج ہے جس کے نتیجہ میں بار بار ہندوؤں سے ٹکراؤ ہوتا ہے اور ایک طرفہ طور پر مسلمان برباد ہوتے ہیں۔ کشمیر کی موجودہ تحریک کی ناکامی سے مسلمانوں کے موجودہ ذہن کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اور وہ برداشت کے ساتھ رہنے پر راضی ہو جائیں گے۔ جب ایسا ہوگا تو اس کے فوراً بعد مسلمانوں کی ترقی کا سفر بھی بلا رکاوٹ شروع ہو جائے گا۔ انشا اللہ العزیز۔ ۳۰ جنوری ۱۹۹۰ بلیما سے ایک مسلمان وکیل صاحب کا خط موصول ہوا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ "بعد احترام عرض ہے کہ میں قوم و ملت کے فلاحی سلسلے میں ایک پٹیشن (petition) عدالت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ اس سلسلے میں کچھ اعداد و شمار کی اشد ضرورت ہے؛ مسلمان تقریباً ۵۰ برس سے یہی کر رہے ہیں۔ وہ اپنی اصلاح اور ترقی کے لائف قانون اور حکومت کی طرف دیکھتے ہیں۔ اور جب قانون اور حکومت کی طرف سے ان کی امیدیں پوری نہیں ہوتیں تو وہ ان کے خلاف احتجاج اور فریاد میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ بات لغویت کی حد تک بے فائدہ ہے۔ کسی قوم یا فرد کی فلاح و ترقی کا دار ومدار اس کی اپنی محنت پر ہے نہ کہ قانون اور حکومت پر۔ مسلم رہنماؤں نے اس معاملہ میں مسلمانوں کو نہایت غلط رہنمائی دی۔ انھوں نے مسلمانوں کو یہ نہیں بتایا کہ تمہارے مسائل کا سبب تمہاری اپنی کوتاہیاں ہیں۔ وہ اس معاملہ میں ہمیشہ حکومت اور قانون کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہی مسلمانوں کا عام ذہن بن گیا ۔ اب مسلمانوں کی سب سے بڑی خیر خواہی یہ ہے کہ ان کے اس ذہن کو بدلا جائے ۔ ان کے ذہن کو خارج سے ہٹا کر داخل کی طرف موڑ دیا جائے۔ ۳۰ - ۳۱ جنوری ۱۹۹۰ کو میں پہل مردرہ ( پنجاب ) میں تھا۔ یہ ضلع انبالہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader