آغازِ کلام
Urdu book, p. 242
By Maulana Wahiduddin Khan
تاہم ان کا حلیہ بتا رہا تھا کہ وہ قبر کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ انسان اگر ۵۰ سال یا ۶۰ سال میں نہ مرے ، تب بھی وہ "۱۱۵ سال" سے زیادہ جی نہیں سکتا۔ اس دنیا میں اربوں اور کھربوں انسان پیدا ہوئے ۔ مگر ان میں سے کوئی شخص بھی، ہمیشہ کے لئے زندہ نہ رہ سکا ۔ یکم فروری ۱۹۹۰ء ابن تیمیہ کی ایک مشہور کتاب "الصارم المسلول علی شاتم الرسول" ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے اس نقطہ نظر کی حمایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تم کہنے والا علی الاطلاق طور پر قابل قتل ہے۔ اس سلسلہ میں ابن تیمیہ کے سامنے یہ سوال آیا کہ عرب کے بہت سے لوگ، جو مسلم طور پر شتم اور ایذارسانی کے مجرم تھے ، اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں قتل نہیں کرایا ۔ مثلاً عبد اللہ بن ابی کو ۔ ابن تیمیہ نے اس کی جو توجیہ کی ہے وہ نہایت عجیب ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تو یہ فرمایا کہ عبد اللہ بن ابی کو ہم اس لئے قتل نہیں کر رہے ہیں کہ لوگ یہ کہہ کر ، ہم کو بدنام کریں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں۔ مگر ابن تیمیہ نے یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی کو اس لئے قتل نہیں کیا کہ اسلام اس وقت کمزور تھا۔ (صفحه ۷۵، ۱) دوسرے لفظوں میں یہ کہ رسول اللہ نے اپنے قول کے مطابق عبد اللہ بن ابی کو بر بنا کے اصول قتل نہیں کیا۔ مگر ابن تیمیہ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو بربنائے ضعف قتل نہیں کیا۔ استغفر اللہ ۔ ۲ فروری ۱۹۹۰ء ۳ جنوری ۱۹۹۰ء کو حیدر آباد میں ایک نام نہاد سیمنار ہوا۔ اس کا موضوع " اسلام میں اہانت رسول کی سزا" تھا۔ حیدر آباد کے کچھ لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہ سیمنار میرے مخالفین نے کیا تھا اور اس کا مقصد میرے بارہ میں یہ بیان جاری کرنا تھا کہ میں نے نعوذ باللہ اہانت رسول کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader