Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 243

By Maulana Wahiduddin Khan

جرم کیا ہے۔ سیمنار کے شرکاء اس کی جرات تو نہ کرسکے۔ البتہ اس کے صدر نے اپنے خطبہ میں دھلی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کا یہ جملہ نقل کیا کہ وحید الدین خان صاحب کو اہانت امت کی سزا ملنی چاہئے ( ماہنامہ دعوت وعزیمت، دہلی، فروری ۱۹۹۰ ، صفحہ ۳ ) مذکورہ " خطبہ " میں مزید کہا گیا کہ " ہندوستان کے تمام چوٹی کے علماء، خواہ ان کا تعلق مدارس اسلامیہ سے ہو یا مختلف اسلامی تحریکوں سے ، وہ سب وحید الدین خان کی تحریروں کو وقت کا ایک بڑا فتنہ سمجھتے ہیں ۔ صفحہ ۳۸۔ آج اگر میں اس پر کوئی تبصرہ کروں تو شاید وہ قبل از وقت ہوگا۔ اس لئے میں اس پر فیصلہ کو مستقبل کے لئے چھوڑتا ہوں۔ اور اگر دنیا میں اس کا فیصلہ نہ ہو سکا تو قیامت کے دن تو بہر حال اس کا فیصلہ ہونا ہے جہاں فیصلہ کا اختیار تمام تر خداوند ذوالجلال کو ہوگا نہ کہ ان شخصیتوں کو جن کو لوگوں نے آج " چوٹی کے علماء " کا لقب دے رکھا ہے۔ ۳ فروری ۱۹۹۰ آج ٹائمز آف انڈیا نے ایک شخص کا قول نقل کیا ہے ۔ صرف داعیہ وہ چیز ہے جو لوگوں کے اعمال میں کردار کی صفت پیدا کرتا ہے : It is motive alone that gives character to the actions of men یہ بات فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔ انسان کے ظاہری اعضا سب کے سب دماغ کی ہدایت کے تحت متحرک ہوتے ہیں۔ اس لئے قدرتی طور پر اعمال میں اصل اہمیت داعیہ یا محرک کی ہو جاتی ہے۔ کسی فرد یا قوم کو دوبارہ اٹھانے کے سلسلہ میں اصل کام یہ ہے کہ اس کے اندر گہرا داعیہ پیدا کر دیا جائے۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ حرکت میں آ جائے گا۔ داعیہ پیدا ہونے کے بعد کوئی رک نہیں سکتا۔ اسی طرح داعیہ کے بغیر عملی سرگرمیوں کا ظہور میں آنا بھی ممکن نہیں۔ ۴ فروری ۱۹۹۰ مولانابد رجھمال اصلاحی (۲۲ سال ) ملاقات کے لئے آئے۔ وہ سرائیر اعظم گڑھ کے رہنے والے ہیں اور آجکل جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ میں استاد ہیں۔ انھوں نے بتا یا کہ عرب عالم محمد المجذوب کی ایک کتاب مشاهداتی فی الہند ہے اس کتاب میں انھوں نے تفصیل سے میرا ذکر کیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page