آغازِ کلام
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے اور لکھا ہے کہ وحید الدین خاں جس انداز میں دین کی خدمت کر رہے ہیں، وہی آج دین کی خدمت کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔ وغیرہ مولانا بدر جمال صاحب نے بتایا کہ مولانا ابو بکر غازی پوری سعودی عرب گئے۔ وہاں ان کی ملاقات شیخ محمد المخدوب سے ہوئی۔ مولانا ابو بکر نے ان سے کہا کہ وحید الدین خاں کا آپ نے اپنی کتاب میں اتنے شاندار انداز میں تذکرہ کیا ہے۔ حالاں کہ وہ تو ایک بے حیثیت آدمی ہیں۔ شیخ محمد المخدوب نے جواب دیا کہ اس معاملہ میں آپ مجھے معاف رکھیں، کیوں کہ آپ لوگوں (ہندوستانی علماء) کا ذہن بہت تنگ ہے۔ وہ اپنے سوا کسی کا اعتراف کرنا نہیں جانتے۔ ۵ فروری ۱۹۹۰ء ٹائمس آف انڈیا نے کسی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ۔۔۔ کچھ لوگوں کے لئے سونے سے بھی زیادہ محبوب چیز عزت ہوتی ہے: To few is honour dearer than gold. سونا صرف اس شخص کے لئے اہمیت رکھتا ہے جس کو ابھی سونا نہ ملا ہو۔ جس آدمی کو سونا مل جائے، اس کے لئے ساری اہمیت عزت و شہرت کی ہو جاتی ہے۔ ایک صاحب منصب نے ایک بار فخر کے ساتھ کہا تھا کہ مجھ کو سونے اور چاندی کے سکوں سے خریدا نہیں جا سکتا۔ اس پر میں نے یہ تاثر درج کیا تھا کہ ۔۔۔ کچھ لوگ فخر کرتے ہیں کہ وہ چاندی اور سونے کے سکوں میں بک نہیں سکتے۔ مگر عین اسی وقت وہ شہرت و عزت کے سکوں میں بکے ہوئے ہوتے ہیں۔ ۶ فروری ۱۹۹۰ء آج اردو اخبار قومی آواز کے پہلے صفحہ کی جلی سرخی یہ تھی : "۴ ہزار پاکستانی در اندازیوں کی جموں میں تخریب کاری" بظاہر اس کا مطلب یہ تھا کہ چار ہزار پاکستانی جموں کی آبادی میں گھس آئے ہیں اور ہندوستانی علاقہ (جموں) میں تخریبی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کو پڑھ کر میں نے سمجھا کہ آجکل دونوں ملکوں میں جس جنگ کی بات ہو رہی تھی، وہ جنگ شاید شروع ہو گئی۔ مگر آج کا ٹائمس آف انڈیا دیکھا تو اس کی سرخی یہ تھی : 4000 Pakistanis try to cross over

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader