آغازِ کلام
Urdu book, p. 245
By Maulana Wahiduddin Khan
واقعہ کے اعتبار سے انگریزی سرخی صحیح تھی۔ کیوں کہ اصل واقعہ یہ تھا کہ جموں شہر سے ۲۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر رنبیر سنگھ پورہ کے پاس پاکستان کی طرف سے تقریباً تمہار آدمی ہندوستان مخالف نعرہ لگاتے ہوئے آئے۔ اور سرحد پار کر کے ہندوستانی علاقہ میں گھسنے کی کوشش کی۔ مگر ہندوستانی فوجیوں نے ان کے اوپر فائرنگ کی۔ چند آدمی مرے اور کچھ زخمی ہوئے ۔ اس کے بعد وہ لوگ واپس بھاگ گئے۔ اردو اخبار کی سرخی زرد صحافت کی مثال ہے۔ اور یہ زرد صحافت اردو اخبارات میں شروع سے چھائی رہی۔ الہلال سے لے کر اب تک اردو اخبارات کا یہی انداز رہا ہے۔ ۷ فروری ۱۹۹۰ میرے لڑکے ثانی اشنین کے یہاں پچھلے ماہ چوتھا بچہ پیدا ہوا ہے۔ مگر، ہمارے یہاں ابھی تک کوئی کھلونا نہیں آیا ہے۔ میں نے سختی سے منع کر دیا تھا کہ گھر میں کھلونا داخل نہ ہو۔ کل میں گھر کے اندر گیا تو ثانی اشنین کی بچی سعدیہ (۱۰ سال)، خوشی خوشی ایک کھلونا لائی اور مجھ کو دکھا کر کہنے لگی کہ یہ ہماری پھو پھی نے ہم کو دیا ہے۔ مجھے غصہ آ گیا۔ میں نے کھلونا اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور اس کو نیچے الماری میں بند کر دیا۔ سعدیہ روتی رہی۔ مگر میں نے کھلونا اس کو نہیں دیا۔ اگلے دن میں گھر کے اندر گیا تو میری بیوی (سعدیہ کی دادی)، نے کہا کہ سعدیہ مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ اللہ میاں تو دادا سے بھی زیادہ بڑے ہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ اس نے کہا کہ اگر اللہ میاں چاہیں تو وہ دادا سے ہم کو کھلونا دلوا دیں گے۔ میں نے کہا کہ ہاں۔ اس کے بعد سعدیہ سجدہ کی حالت میں جا کر کہنے لگی: اللہ میاں، دادا سے ہم کو کھلونا دلوا دیجئے ۔ یہ واقعہ سن کر میرا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ میں نے کھلونا لاکر سعدیہ کو دے دیا۔ خدا کا نام درمیان میں آنے کے بعد مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں کھلونا سعدیہ کو نہ دوں۔ ۸ فروری ۱۹۹۰ ۱۹۸۸ کے آخر میں سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات (The Satanic Verses) شائع ہوئی۔ ۱۴ فروری ۱۹۸۹ کو ایران کے آیت اللہ الخمینی نے فتویٰ دیا کہ رشدی سزائے موت کا مستحق ہے، اس کو قتل کر دیا جائے ۔ مسلم علما اور دانشوروں اور رہنماؤں نے اس فتوے کی پر زور حمایت کی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader