Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 246

By Maulana Wahiduddin Khan

میں زندہ رہا۔ اور آیت اللہ خمینی ۳ جون ۱۹۸۹ کو انتقال کرگئے۔ اس کے علاوہ بہت سے مسلمان اپنے پر تشدد مظاہروں میں ہلاک ہو گئے۔ ہفت روزہ نئی دنیا ( ۹ فروری ۱۹۹۰ ) لے لکھا ہے کہ " لندن کے ایک ہوٹل کے کمرہ میں ایک بم دھماکہ میں ایک ۲۱ سالہ فرانسیسی سلمان ہلاک ہو گیا۔ اس واقعہ کی تحقیقات کے نتیجہ میں انکشاف ہوا ہے کہ ہوٹل کے کمرہ میں یہ فرانسیسی سلمان بم بنا رہا تھا جس کے اچانک پھٹ جانے سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ ایک گروپ نے جس کا ہیڈ کوارٹر بیروت میں ہے، دعو کیا ہے کہ یہ بم سلمان رشدی کو قتل کرنے کے لئے بنایا جا رہا تھا مگر بدقسمتی سے بم بنانے والا خود ہی اپنے بم کا شکار ہوگیا۔ وہ رشدی کو اس کا نشانہ نہ بنا سکا۔ صفحہ ۴م اس قسم کے واقعات محض اتفاقی ہوتے ہیں۔ مگر اسی قسم کا کوئی اتفاق جب کسی مفروضہ بزرگ کے معاملہ میں پیش آجا لے تو وہ ان کے معتقدین کی نگاہ میں بزرگ کی بزرگی کو آخری طور پر مسلم اور ثابت شدہ بنا دیتا ہے۔ اگر یہ کوئی معیار ہو تو ایسے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس کے مطابق رشدی کو بھی ایک بزرگ تسلیم کریں۔ ۹ فروری ۱۹۹۰ پاکستان کے اخبار نوائے وقت (یکم فروری ۱۹۹۰) میں صفحہ اول پر ایک خبر ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ لاہور میں ۳۱ جنوری ۱۹۹۰ کو ایک جلسہ ہوا۔ اس کے مقررین میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس یعقوب علی خاں بھی تھے۔ انھوں نے کہا کہ : " عدلیہ کے ارکان کا فرض انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے۔ انہیں اس بات کو پیش نظر نہیں رکھنا چاہئے کہ ان کے فیصلہ سے کوئی خوش ہوتا ہے یا ناخوش۔ اور اس کے فیصلہ سے اس کی ذات پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اگر کسی جج کو اس کے حلف کے خلاف کسی عہدہ پر فائز رہنے پر مجبور کیا جائے تو اس کے لئے اس عہدہ کو خیر باد کہنا ہی دانش مندی ہوگی۔ پاکستان کی عدلیہ سے بعض ایسے فیصلے صادر ہوئے ہیں جن سے خود عدلیہ نے اپنے ہی مختلف فیصلوں کے سنئے اور کھڑے دئے ۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر نصرت بھٹو کیس (بمقابلہ ضیا الحق)، میں نظریۂ ضرورت کے تحت "انحراف" کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page