Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 247

By Maulana Wahiduddin Khan

اصلاح نہ نکالی جاتی تو ہماری سیاسی تاریخ آج قطعی مختلف ہوتی۔ سپریم کورٹ اگر نصرت بھٹو کیس میں یہ فیصلہ دیتی کہ مارشل لا حکومت قانونی نہیں ہے تو اس سے پوری قوم کا ضمیر جاگ اٹھتا۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے ۵ جولائی ۱۹۷۷ء کو پاکستان میں فوجی انقلاب کیا اور ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کو ختم کرکے خود صدارت کے تخت پر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد انھوں نے قانون ضرورت کے تحت اپنی حکومت کے حق میں جواز کا فیصلہ حاصل کر لیا۔ یہ ایک روایت کو توڑنا تھا۔ جب صدر ریاست اس طرح کی روایت کو توڑے تو پوری قوم روایت شکنی کی راہ پر چل پڑتی ہے۔ اس کے بعد کوڑے کے منطق سے اس کو روایت شکنی سے روکا نہیں جا سکتا۔ ۱ فروری ۱۹۹۰ء طرابلس سے ٹیلیفون آیا۔ شیخ محمد سلیمان القائد نے انگریزی کی کتابیں زیادہ تعداد میں مانگی ہیں۔ اس کے علاوہ انگریزی الرسالہ ہر ماہ ۳۰ عدد بھیجنے کے لئے کہا۔ انھوں نے بتایا کہ لیبیا کے علاوہ مغرب اور تیونس وغیرہ میں بھی الرسالہ کا مشن پھیل گیا ہے۔ اور بڑی تعداد میں لوگ اس کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ شیخ محمد سلیمان القائد میں تنظیم کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔ انھوں نے الرسالہ کے مشن کو بخوبی طور پر سمجھا ہے۔ وہ رات دن محنت کر کے اس مشن کو پھیلانے میں مشغول ہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس مشن کے "لینن" ہیں۔ جس طرح مارکس کے نظریہ کو لینن نے عملاً قائم کیا۔ الرسالہ کی فکر کو انشاء اللہ وہ عملاً قائم کریں گے۔ اس رخ پر وہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ۱۱ فروری ۱۹۹۰ء آج ایک نوجوان ڈاکٹر آئے۔ انھیں عرب میں ایک کام مل گیا ہے۔ وہ ۳ مارچ کو وہاں کے لئے روانہ ہو رہے ہیں۔ ان کے ماموں اس سے پہلے عرب میں رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میرے ماموں نے مجھ کو یہ نصیحت کی ہے کہ تم جب وہاں پہنچو تو بس اپنے کام سے کام رکھنا۔ کوئی چیز خلاف مزاج دیکھو تو اس پر تنقید نہ کرنا۔ وہاں کے نظام سے مکمل مطابقت کر کے رہنا۔ میں نے کہا کہ آپ کے ماموں صاحب نے آپ کو بہت اچھی اور کار آمد نصیحت کی ہے۔ مگر ماموں صاحب سے کہئے کہ یہی نصیحت وہ ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی کریں۔ میں نے کہا کہ یہ عجیب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page